روپ سر سے پاؤں تک دھارے ہوئے

Badiuzzaman Khawar (1938–1990)

روپ سر سے پاؤں تک دھارے ہوئے

بھگوان کا

یہ جو ہے اک ناریل کا پیڑ

ساحل پر کھڑا

مہرباں لگتا ہے کتنا آنکھ کو

کس محبت سے بلاتا ہے کہ

آؤ مانگ لو

چاہتے ہو مجھ سے تم جو کچھ بھی

سائے کے سوا