جھیل کے پانی میں لہریں اٹھ رہی ہیں
Badiuzzaman Khawar (1938–1990)جھیل کے پانی میں لہریں اٹھ رہی ہیں
ایک پتا گر چکا ہے
ایک پتا گر رہا ہے
اور تھکے ماندے مسافر
بے خبر اس راز سے ہیں
تازگی قدموں کو جس کی چھاؤں سے ملتی رہی ہے
راستے کا وہ مقدس پیڑ ننگا ہو رہا ہے