Poetry
Poet
Meter
- خزاں میں اب پھول آنے والے ہیںتم مگر ساتھ ساتھ رہناEhsan Akbar (b. 1938)
- سحر کے اگر ایسے لمحات میں جاگتے ہوستارے بھی جب اونگھ جائیںEhsan Akbar (b. 1938)
- قدم مٹی پہ رکھتی ہوکہ عرش اوپر ٹھہرتے ہیںEhsan Akbar (b. 1938)
- مرے ہاتھوں میں سورج کی سواری کے سواگت کے لئےگجرے نہیں ہوتےEhsan Akbar (b. 1938)
- ہمیں کیا چاندنی کی راتکیا راتوں کی تاریکیEhsan Akbar (b. 1938)
- ہوا سے بات کروکہو کہ اس کی لگائی ہوئی گرہ نہ کھلیEhsan Akbar (b. 1938)
- ہوا مری رازداں نہیں ہےکہ چتر اس کاEhsan Akbar (b. 1938)
- یہ تم سبکہ جن کے سروں میں جوانی کا خوں لہلہاتا ہےEhsan Akbar (b. 1938)
- ان دنوں میں غربتوں کی شام کے منظر میں ہوںمیری چھت ٹوٹی پڑی ہے دوسروں کے گھر میں ہوںZafar Kaleem (b. 1938)
- بات مہندی سے لہو تک آ گئیگفتگو اب تم سے تو تک آ گئیZafar Kaleem (b. 1938)
- بخت جاگے تو جہاں دیدہ سی ہو جاتی ہےشخصیت اور بھی سنجیدہ سی ہو جاتی ہےZafar Kaleem (b. 1938)
- پھولا پھلا شجر تو ثمر پر بھی آئے گالیکن اسی لحاظ سے پتھر بھی آئے گاZafar Kaleem (b. 1938)
- چل پڑے تو پھر اپنی دھن میں بے خبر برسوںلوٹ کر نہیں دیکھا ہم نے اپنا گھر برسوںZafar Kaleem (b. 1938)
- سرد رتوں میں لوگوں کو گرمی پہنچانے والے ہاتھبرف کے جیسے ٹھنڈے کیوں ہیں اون بنانے والے ہاتھZafar Kaleem (b. 1938)
- سمٹوں تو صفر سا لگوں پھیلوں تو اک جہاں ہوں میںجتنی کہ یہ زمین ہے اتنا ہی آسماں ہوں میںZafar Kaleem (b. 1938)
- شہرتوں کی ہمیں للک ہے بہتخود نمائی میں کیا چمک ہے بہتZafar Kaleem (b. 1938)
- طبع روشن کو مری کچھ اس طرح بھائی غزلجب بھی میں تنہا ہوا ہوں مجھ کو یاد آئی غزلZafar Kaleem (b. 1938)
- کھڑکی سے مہتاب نہ دیکھوایسے بھی تم خواب نہ دیکھوZafar Kaleem (b. 1938)
- کھل گئیں آنکھیں کہ جب دنیا کا سچ ہم پر کھلااپنے اندر سب کھلے ہیں کون ہے باہر کھلاZafar Kaleem (b. 1938)
- گمان تک میں نہ تھا محو یاس کر دے گاوہ یوں ملے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گاZafar Kaleem (b. 1938)
- گھر سے نکالے پاؤں تو رستے سمٹ گئےہم یوں چلے کہ راہ کے پتھر بھی ہٹ گئےZafar Kaleem (b. 1938)
- مجھ کو سمجھو نہ حرف غلط کی طرحثبت ہو جاؤں گا دستخط کی طرحZafar Kaleem (b. 1938)
- نوائے حق پہ ہوں قاتل کا ڈر عزیز نہیںپڑے جہاد تو اپنا بھی سر عزیز نہیںZafar Kaleem (b. 1938)
- ہم پر جو ہنس رہا تھا وہ رویا ہوا سا ہےشاید کہ اس کے ساتھ بھی دھوکا ہوا سا ہےZafar Kaleem (b. 1938)
- ہم فقیروں سے سمجھ ہم کو نہ سمجھا کیا ہےہم سمجھ بوجھ کے بیٹھے ہیں کہ دنیا کیا ہےZafar Kaleem (b. 1938)
- ہو چکی ہجرت تو پھر کیا فرض ہے گھر دیکھنااپنی فطرت میں نہیں پیچھے پلٹ کر دیکھناZafar Kaleem (b. 1938)
- ہونٹوں میں سچ بات دبا لیتے ہیں لوگاپنے من کا پاپ چھپا لیتے ہیں لوگZafar Kaleem (b. 1938)
- وائے خوش فہمی کہ پرواز یقیں سے بھی گئےآسماں چھونے کی خواہش میں زمیں سے بھی گئےZafar Kaleem (b. 1938)
- آئنے میں خود اپنا چہرا ہےپھر بھی کیوں اجنبی سا لگتا ہےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- اترے تو کئی بار صحیفے مرے گھر میںملتے ہیں مگر صرف جریدے مرے گھر میںZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- ایسے لمحے پر ہمیں قربان ہو جانا پڑاایک ہی لغزش میں جب انسان ہو جانا پڑاZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- تخلیق کی دنیا تو اسرار کی دنیا ہےہر فکر میں جنت ہے ہر لفظ میں صحرا ہےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- جو شور کرتے رہے شور ہی میں ڈوب گئےسب اپنے ذوق جنوں کی ندی میں ڈوب گئےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- حقائق کتنے اے اہل نظر ہم بھول جاتے ہیںچھپے ہوتے ہیں پتھر میں گہر ہم بھول جاتے ہیںZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- فکر سے الفاظ تک پھیلا ہوا میری طرحمیں نہ تھا سچ ہے مگر وہ کون تھا میری طرحZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- کیا دعائے فرسودہ حرف بے اثر مانگوںتشنگی میں جینے کا اب کوئی ہنر مانگوںZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- لفظوں سے تصویر بناتا جاؤں میںہنستے گاتے رنگ دکھاتا جاؤں میںZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- محبت کرنے والوں کی دل آزاری نہیں کرتےخطا پر سر جھکانے والے مکاری نہیں کرتےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- نگاہوں کو خلا میں ذہن کو دفتر میں رکھ دیں گےمگر اپنے مسائل گھر کے ہیں ہم گھر میں رکھ دیں گےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- ہر آدمی کو خواب دکھانا محال ہےشعلوں میں جیسے پھول کھلانا محال ہےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- ہر غزل ہر شعر اپنا استعارہ آشنافصل گل میں جیسے شاخ گل شرارا آشناZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- تجھے لذتوں کی سحر ملےتجھے آئنوں کا سفر ملےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- چلو یہ بھی کریںہم روشنائی کو لہو کر کےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- خدا کی طرف سےودیعت ہوئی ہےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- یہ زمیں یہ حسیں سرزمیںجنگلوں پربتوں سبزہ زاروں نشیلی ہواؤں کی آماجگاہZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- بم پھٹے لوگ مرے خون بہا شہر لٹےاور کیا لکھا ہے اخبار میں آگے پڑھیےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- جوانی کی امنگوں کا یہی انجام ہے شایدچلے آؤ کہ وعدے کی سہانی شام ہے شایدJafar Abbas Safvi (b. 1938)
- جو حسیں حسن تغافل سے گزر جاتا ہےچاہنے والوں کے وہ دل سے اتر جاتا ہےJafar Abbas Safvi (b. 1938)
- چلے جائیے گا مری انجمن سےیہ کیا سن ہوں تمہارے دہن سےJafar Abbas Safvi (b. 1938)
- چمن میں خار ہی کیا گل بھی دل فگار ملےفریب خوردۂ رنگینیٔ بہار ملےJafar Abbas Safvi (b. 1938)