Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. خزاں میں اب پھول آنے والے ہیںتم مگر ساتھ ساتھ رہناEhsan Akbar (b. 1938)
  2. سحر کے اگر ایسے لمحات میں جاگتے ہوستارے بھی جب اونگھ جائیںEhsan Akbar (b. 1938)
  3. قدم مٹی پہ رکھتی ہوکہ عرش اوپر ٹھہرتے ہیںEhsan Akbar (b. 1938)
  4. مرے ہاتھوں میں سورج کی سواری کے سواگت کے لئےگجرے نہیں ہوتےEhsan Akbar (b. 1938)
  5. ہمیں کیا چاندنی کی راتکیا راتوں کی تاریکیEhsan Akbar (b. 1938)
  6. ہوا سے بات کروکہو کہ اس کی لگائی ہوئی گرہ نہ کھلیEhsan Akbar (b. 1938)
  7. ہوا مری رازداں نہیں ہےکہ چتر اس کاEhsan Akbar (b. 1938)
  8. یہ تم سبکہ جن کے سروں میں جوانی کا خوں لہلہاتا ہےEhsan Akbar (b. 1938)
  9. ان دنوں میں غربتوں کی شام کے منظر میں ہوںمیری چھت ٹوٹی پڑی ہے دوسروں کے گھر میں ہوںZafar Kaleem (b. 1938)
  10. بات مہندی سے لہو تک آ گئیگفتگو اب تم سے تو تک آ گئیZafar Kaleem (b. 1938)
  11. بخت جاگے تو جہاں دیدہ سی ہو جاتی ہےشخصیت اور بھی سنجیدہ سی ہو جاتی ہےZafar Kaleem (b. 1938)
  12. پھولا پھلا شجر تو ثمر پر بھی آئے گالیکن اسی لحاظ سے پتھر بھی آئے گاZafar Kaleem (b. 1938)
  13. چل پڑے تو پھر اپنی دھن میں بے خبر برسوںلوٹ کر نہیں دیکھا ہم نے اپنا گھر برسوںZafar Kaleem (b. 1938)
  14. سرد رتوں میں لوگوں کو گرمی پہنچانے والے ہاتھبرف کے جیسے ٹھنڈے کیوں ہیں اون بنانے والے ہاتھZafar Kaleem (b. 1938)
  15. سمٹوں تو صفر سا لگوں پھیلوں تو اک جہاں ہوں میںجتنی کہ یہ زمین ہے اتنا ہی آسماں ہوں میںZafar Kaleem (b. 1938)
  16. شہرتوں کی ہمیں للک ہے بہتخود نمائی میں کیا چمک ہے بہتZafar Kaleem (b. 1938)
  17. طبع روشن کو مری کچھ اس طرح بھائی غزلجب بھی میں تنہا ہوا ہوں مجھ کو یاد آئی غزلZafar Kaleem (b. 1938)
  18. کھڑکی سے مہتاب نہ دیکھوایسے بھی تم خواب نہ دیکھوZafar Kaleem (b. 1938)
  19. کھل گئیں آنکھیں کہ جب دنیا کا سچ ہم پر کھلااپنے اندر سب کھلے ہیں کون ہے باہر کھلاZafar Kaleem (b. 1938)
  20. گمان تک میں نہ تھا محو یاس کر دے گاوہ یوں ملے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گاZafar Kaleem (b. 1938)
  21. گھر سے نکالے پاؤں تو رستے سمٹ گئےہم یوں چلے کہ راہ کے پتھر بھی ہٹ گئےZafar Kaleem (b. 1938)
  22. مجھ کو سمجھو نہ حرف غلط کی طرحثبت ہو جاؤں گا دستخط کی طرحZafar Kaleem (b. 1938)
  23. نوائے حق پہ ہوں قاتل کا ڈر عزیز نہیںپڑے جہاد تو اپنا بھی سر عزیز نہیںZafar Kaleem (b. 1938)
  24. ہم پر جو ہنس رہا تھا وہ رویا ہوا سا ہےشاید کہ اس کے ساتھ بھی دھوکا ہوا سا ہےZafar Kaleem (b. 1938)
  25. ہم فقیروں سے سمجھ ہم کو نہ سمجھا کیا ہےہم سمجھ بوجھ کے بیٹھے ہیں کہ دنیا کیا ہےZafar Kaleem (b. 1938)
  26. ہو چکی ہجرت تو پھر کیا فرض ہے گھر دیکھنااپنی فطرت میں نہیں پیچھے پلٹ کر دیکھناZafar Kaleem (b. 1938)
  27. ہونٹوں میں سچ بات دبا لیتے ہیں لوگاپنے من کا پاپ چھپا لیتے ہیں لوگZafar Kaleem (b. 1938)
  28. وائے خوش فہمی کہ پرواز یقیں سے بھی گئےآسماں چھونے کی خواہش میں زمیں سے بھی گئےZafar Kaleem (b. 1938)
  29. آئنے میں خود اپنا چہرا ہےپھر بھی کیوں اجنبی سا لگتا ہےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  30. اترے تو کئی بار صحیفے مرے گھر میںملتے ہیں مگر صرف جریدے مرے گھر میںZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  31. ایسے لمحے پر ہمیں قربان ہو جانا پڑاایک ہی لغزش میں جب انسان ہو جانا پڑاZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  32. تخلیق کی دنیا تو اسرار کی دنیا ہےہر فکر میں جنت ہے ہر لفظ میں صحرا ہےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  33. جو شور کرتے رہے شور ہی میں ڈوب گئےسب اپنے ذوق جنوں کی ندی میں ڈوب گئےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  34. حقائق کتنے اے اہل نظر ہم بھول جاتے ہیںچھپے ہوتے ہیں پتھر میں گہر ہم بھول جاتے ہیںZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  35. فکر سے الفاظ تک پھیلا ہوا میری طرحمیں نہ تھا سچ ہے مگر وہ کون تھا میری طرحZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  36. کیا دعائے فرسودہ حرف بے اثر مانگوںتشنگی میں جینے کا اب کوئی ہنر مانگوںZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  37. لفظوں سے تصویر بناتا جاؤں میںہنستے گاتے رنگ دکھاتا جاؤں میںZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  38. محبت کرنے والوں کی دل آزاری نہیں کرتےخطا پر سر جھکانے والے مکاری نہیں کرتےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  39. نگاہوں کو خلا میں ذہن کو دفتر میں رکھ دیں گےمگر اپنے مسائل گھر کے ہیں ہم گھر میں رکھ دیں گےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  40. ہر آدمی کو خواب دکھانا محال ہےشعلوں میں جیسے پھول کھلانا محال ہےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  41. ہر غزل ہر شعر اپنا استعارہ آشنافصل گل میں جیسے شاخ گل شرارا آشناZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  42. تجھے لذتوں کی سحر ملےتجھے آئنوں کا سفر ملےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  43. چلو یہ بھی کریںہم روشنائی کو لہو کر کےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  44. خدا کی طرف سےودیعت ہوئی ہےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  45. یہ زمیں یہ حسیں سرزمیںجنگلوں پربتوں سبزہ زاروں نشیلی ہواؤں کی آماجگاہZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  46. بم پھٹے لوگ مرے خون بہا شہر لٹےاور کیا لکھا ہے اخبار میں آگے پڑھیےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
  47. جوانی کی امنگوں کا یہی انجام ہے شایدچلے آؤ کہ وعدے کی سہانی شام ہے شایدJafar Abbas Safvi (b. 1938)
  48. جو حسیں حسن تغافل سے گزر جاتا ہےچاہنے والوں کے وہ دل سے اتر جاتا ہےJafar Abbas Safvi (b. 1938)
  49. چلے جائیے گا مری انجمن سےیہ کیا سن ہوں تمہارے دہن سےJafar Abbas Safvi (b. 1938)
  50. چمن میں خار ہی کیا گل بھی دل فگار ملےفریب خوردۂ رنگینیٔ بہار ملےJafar Abbas Safvi (b. 1938)