کیا کہیں روز صبح ہوتے ہی
Badiuzzaman Khawar (1938–1990)کیا کہیں روز صبح ہوتے ہی
یہ مسافر کہاں سے آتے ہیں
لوٹ کر روز شام سے پہلے
کیا بتائیں کہاں یہ جاتے ہیں
چار تنکوں کی فکر میں دن بھر
کیا خبر کیوں یہ اڑتے رہتے ہیں
دکھ سفر کا ہر ایک موسم میں
کیا پتا کس لیے یہ سہتے ہیں
کون جانے کسی بیاباں میں
ان پرندوں کے گھر کہاں ہوں گے
کس کو معلوم کن درختوں پر
ان پرندوں کے آشیاں ہوں گے