نہ پھینکو

Badiuzzaman Khawar (1938–1990)

نہ پھینکو

طاق میں اس کو سنبھال کر رکھو

حقیر ہی سہی

ٹکڑا یہ موم بتی کا

کسی بھی وقت اڑا فیوز تو

اندھیرے میں

عجب نہیں کہ یہ پھر اپنے کام آ جائے

سنا ہے کوئی بھروسا نہیں ہے بجلی کا

نہ پھینکو رہنے دو

ٹکڑا یہ موم بتی کا

حقیر ہی سہی ظلمت میں جل تو سکتا ہے