ہر ایک گام پہ حد ہر قدم در و دیوار

Ehsan Akbar (b. 1938)

ہر ایک گام پہ حد ہر قدم در و دیوار

فضائے شہر بنی بیش و کم در و دیوار

یہی تھے صحن فضا اور یہی گھر آنگن تھا

تم آئے ہو تو ہوئے محتشم در و دیوار

ہم اپنے درد ہواؤں سے بھی نہیں کہتے

اٹھائے پھرتے ہیں خود اپنے غم در و دیوار

یہ ریگ زار ہے اور اس کی اپنی دنیا ہے

یہاں ہمیشہ رہے کم سے کم در و دیوار

ہوا وطن کی پلٹ آئی بادبان کے ساتھ

وہی یہاں بھی فضا آشرم در و دیوار

نظر کے آگے نہیں پر نظر میں زندہ ہیں

سکول بستے گھروندے قلم در و دیوار

گئے جہاں بھی وہیں شہر بس گیا احسانؔ

ازل سے اپنے رہے ہم قدم در و دیوار