Poetry
Poet
Meter
- غلط سب دلیلیں غلط سب حوالےاندھیرے اندھیرے اجالے اجالےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- غم دنیا کسی کی یاد حسرت موت کی یاروانہیں دو چار پر ہے اب مدار زندگی یاروPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- غم میں اک لطف شادمانی ہےٹھوکروں میں بھی کامرانی ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- کبھی تسکیں کبھی آزار بھی ہےمحبت پھول بھی ہے خار بھی ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- کبھی رنج و غم تو کبھی بے کسی ہےمری زندگی بھی عجب زندگی ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- کبھی میں نے انہیں پوچھا نہیں ہےانہیں بھی ہے محبت یا نہیں ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- کسی کے رنج و غم میں جو بشر شامل نہیں ہوتاوہ دنیا میں کبھی تعظیم کے قابل نہیں ہوتاPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- کمی آنے نہ پائے اے فلک کچھ جور پیہم میںبہت ہے طاقت برداشت غم آج بھی ہم میںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- کیوں نہ ہم آج حقیقت ہی بتا دیں اپنیجسم اپنا ہی نہ اس جسم میں سانسیں اپنیPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- لوگ جو دل فگار ہوتے ہیںچلتے پھرتے مزار ہوتے ہیںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- مری دنیائے دل زیر و زبر ہےمحبت کی نظر بھی کیا نظر ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- مسرت چیز کیا ہے رنج کیا ہےیہ سارا کھیل اک احساس کا ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- مفلسوں پر جب کبھی آیا شبابگھڑ لئے دنیا نے قصے بے حسابPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- موجوں سے ٹکرائے ہیں ہم طوفانوں سے کھیلے ہیںاک جینے کی خاطر ہم نے کیا کیا صدمے جھیلے ہیںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- نا آشنائے درد دل بیقرار لوگکیا جانیں آبروئے غم انتظار لوگPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- ناخدا کی مشکلیں آسان کر جاتا ہوں میںاپنی کشتی آپ جب طوفاں سے ٹکراتا ہوں میںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- ناسازیٔ حالات نے دل توڑ دیا ہےدنیا کی ہر اک بات نے دل توڑ دیا ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- نالۂ دل رائیگاں دیکھیے کب تک رہےنا مرادی کامراں دیکھیے کب تک رہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- نہ رسوا اس طرح کرتے بلا کر مجھ کو محفل میںاگر پاس وفا ہوتا ذرا بھی آپ کے دل میںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- ہم پر نگاہ لطف کبھی ہے کبھی نہیںتم ہی کہو یہ کیا ہے مگر دل لگی نہیںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- ہم ہیں طوفان حوادث سے گزرنے والےہم نہیں موج بلا خیز سے ڈرنے والےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- ہمیں نفرت ہے ایسی زندگی سےتعلق ہی نہ ہو جس کو خوشی سےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- یہ ہاہا کار کچھ ہےغلط سرکار کچھ ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- تیز رفتاریاںبھوک بیماریاںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- رات ہے چاند ہے ستارے ہیںبے سہاروں کے سو سہارے ہیںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- آگ ہی کاش لگ گئی ہوتیدو گھڑی کو تو روشنی ہوتیBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- ایک پری کی زلفوں میں یوں پھنسا ہوا ہے چاندہم کو لگتا ہے بادل میں چھپا ہوا ہے چاندBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- بھاگتے سورج کو پیچھے چھوڑ کر جائیں گے ہمشام کے ہوتے ہی واپس اپنے گھر جائیں گے ہمBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- جس طرف جاؤ گے اک شور سنائی دے گاکہیں لیکن کوئی چہرہ نہ دکھائی دے گاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- جسے بھی دیکھیے پیاسا دکھائی دیتا ہےکوئی مقام ہو صحرا دکھائی دیتا ہےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- جلے ہیں دل نہ چراغوں نے روشنی کی ہےوہ شب پرستوں نے محفل میں تیرگی کی ہےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- روشنی ہی روشنی ہے شہر میںپھر بھی گویا تیرگی ہے شہر میںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- سورج بھی سر پہ ہو تو اسے سائباں کہیںاب دشت ہی کو آؤ ہم اپنا مکاں کہیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- کب بیاباں راہ میں آیا یہ سمجھا ہی نہیںچلتے رہنے کے سوا دھیان اور کچھ تھا ہی نہیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- کس لیے دشت میں گھر کوئی بنایا جائےپاس کیا ہے جو فصیلوں میں چھپایا جائےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- کھڑا تھا کون کہاں کچھ پتا چلا ہی نہیںمیں راستے میں کسی موڑ پر رکا ہی نہیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- مجھے مٹاتا رہا ہے یہ آسمان بہتمگر زمیں پہ ہیں اب بھی مرے نشان بہتBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- محسوس ہو رہا ہے جو غم میری ذات کاسچ پوچھیے تو درد ہے وہ کائنات کاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- میرے مکاں سے کاش یہ منظر دکھائی دےہریالیوں کے بیچ ترا گھر دکھائی دےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- میں جو دنیا کی کہانی میں نہ کھویا ہوتامیرے خامے نے مسلسل مجھے لکھا ہوتاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- ہے بہت مشکل نکلنا شہر کے بازار میںجب سے جکڑا ہوں میں کمرے کے در و دیوار میںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- آدھی آدھی رات کو یہمرغا کیوں دیتا ہے اذانBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- اپنی مرضی سے کھل نہیں سکتےاپنی مرضی سے ہل نہیں سکتےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- ایک اونٹ نے منت مانیاگر گیا میرا کوہانBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- ایک ہیں نانی جان ہماریکیا بتلائیں کتنی پیاریBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- بنا سکتا ہوں میں بھی خوبصورت کشتیاںلیکنBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- جنگل میں جا کر کوے نےکوئل کا اک گیت چرایاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- چندا ماما تم کو مامانہیں کہوں گا نہیں کہوں گاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- چوہوں نے اک شہر بسایابے حد عالی شانBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- سحر کے ساتھ وہ خاموش ہو چکا ہے مگرشراب نور مسلسل پلا رہا ٔہے مجھےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)