Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. غلط سب دلیلیں غلط سب حوالےاندھیرے اندھیرے اجالے اجالےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  2. غم دنیا کسی کی یاد حسرت موت کی یاروانہیں دو چار پر ہے اب مدار زندگی یاروPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  3. غم میں اک لطف شادمانی ہےٹھوکروں میں بھی کامرانی ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  4. کبھی تسکیں کبھی آزار بھی ہےمحبت پھول بھی ہے خار بھی ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  5. کبھی رنج و غم تو کبھی بے کسی ہےمری زندگی بھی عجب زندگی ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  6. کبھی میں نے انہیں پوچھا نہیں ہےانہیں بھی ہے محبت یا نہیں ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  7. کسی کے رنج و غم میں جو بشر شامل نہیں ہوتاوہ دنیا میں کبھی تعظیم کے قابل نہیں ہوتاPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  8. کمی آنے نہ پائے اے فلک کچھ جور پیہم میںبہت ہے طاقت برداشت غم آج بھی ہم میںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  9. کیوں نہ ہم آج حقیقت ہی بتا دیں اپنیجسم اپنا ہی نہ اس جسم میں سانسیں اپنیPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  10. لوگ جو دل فگار ہوتے ہیںچلتے پھرتے مزار ہوتے ہیںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  11. مری دنیائے دل زیر و زبر ہےمحبت کی نظر بھی کیا نظر ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  12. مسرت چیز کیا ہے رنج کیا ہےیہ سارا کھیل اک احساس کا ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  13. مفلسوں پر جب کبھی آیا شبابگھڑ لئے دنیا نے قصے بے حسابPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  14. موجوں سے ٹکرائے ہیں ہم طوفانوں سے کھیلے ہیںاک جینے کی خاطر ہم نے کیا کیا صدمے جھیلے ہیںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  15. نا آشنائے درد دل بیقرار لوگکیا جانیں آبروئے غم انتظار لوگPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  16. ناخدا کی مشکلیں آسان کر جاتا ہوں میںاپنی کشتی آپ جب طوفاں سے ٹکراتا ہوں میںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  17. ناسازیٔ حالات نے دل توڑ دیا ہےدنیا کی ہر اک بات نے دل توڑ دیا ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  18. نالۂ دل رائیگاں دیکھیے کب تک رہےنا مرادی کامراں دیکھیے کب تک رہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  19. نہ رسوا اس طرح کرتے بلا کر مجھ کو محفل میںاگر پاس وفا ہوتا ذرا بھی آپ کے دل میںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  20. ہم پر نگاہ لطف کبھی ہے کبھی نہیںتم ہی کہو یہ کیا ہے مگر دل لگی نہیںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  21. ہم ہیں طوفان حوادث سے گزرنے والےہم نہیں موج بلا خیز سے ڈرنے والےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  22. ہمیں نفرت ہے ایسی زندگی سےتعلق ہی نہ ہو جس کو خوشی سےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  23. یہ ہاہا کار کچھ ہےغلط سرکار کچھ ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  24. تیز رفتاریاںبھوک بیماریاںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  25. رات ہے چاند ہے ستارے ہیںبے سہاروں کے سو سہارے ہیںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
  26. آگ ہی کاش لگ گئی ہوتیدو گھڑی کو تو روشنی ہوتیBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  27. ایک پری کی زلفوں میں یوں پھنسا ہوا ہے چاندہم کو لگتا ہے بادل میں چھپا ہوا ہے چاندBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  28. بھاگتے سورج کو پیچھے چھوڑ کر جائیں گے ہمشام کے ہوتے ہی واپس اپنے گھر جائیں گے ہمBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  29. جس طرف جاؤ گے اک شور سنائی دے گاکہیں لیکن کوئی چہرہ نہ دکھائی دے گاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  30. جسے بھی دیکھیے پیاسا دکھائی دیتا ہےکوئی مقام ہو صحرا دکھائی دیتا ہےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  31. جلے ہیں دل نہ چراغوں نے روشنی کی ہےوہ شب پرستوں نے محفل میں تیرگی کی ہےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  32. روشنی ہی روشنی ہے شہر میںپھر بھی گویا تیرگی ہے شہر میںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  33. سورج بھی سر پہ ہو تو اسے سائباں کہیںاب دشت ہی کو آؤ ہم اپنا مکاں کہیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  34. کب بیاباں راہ میں آیا یہ سمجھا ہی نہیںچلتے رہنے کے سوا دھیان اور کچھ تھا ہی نہیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  35. کس لیے دشت میں گھر کوئی بنایا جائےپاس کیا ہے جو فصیلوں میں چھپایا جائےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  36. کھڑا تھا کون کہاں کچھ پتا چلا ہی نہیںمیں راستے میں کسی موڑ پر رکا ہی نہیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  37. مجھے مٹاتا رہا ہے یہ آسمان بہتمگر زمیں پہ ہیں اب بھی مرے نشان بہتBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  38. محسوس ہو رہا ہے جو غم میری ذات کاسچ پوچھیے تو درد ہے وہ کائنات کاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  39. میرے مکاں سے کاش یہ منظر دکھائی دےہریالیوں کے بیچ ترا گھر دکھائی دےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  40. میں جو دنیا کی کہانی میں نہ کھویا ہوتامیرے خامے نے مسلسل مجھے لکھا ہوتاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  41. ہے بہت مشکل نکلنا شہر کے بازار میںجب سے جکڑا ہوں میں کمرے کے در و دیوار میںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  42. آدھی آدھی رات کو یہمرغا کیوں دیتا ہے اذانBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  43. اپنی مرضی سے کھل نہیں سکتےاپنی مرضی سے ہل نہیں سکتےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  44. ایک اونٹ نے منت مانیاگر گیا میرا کوہانBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  45. ایک ہیں نانی جان ہماریکیا بتلائیں کتنی پیاریBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  46. بنا سکتا ہوں میں بھی خوبصورت کشتیاںلیکنBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  47. جنگل میں جا کر کوے نےکوئل کا اک گیت چرایاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  48. چندا ماما تم کو مامانہیں کہوں گا نہیں کہوں گاBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  49. چوہوں نے اک شہر بسایابے حد عالی شانBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
  50. سحر کے ساتھ وہ خاموش ہو چکا ہے مگرشراب نور مسلسل پلا رہا ٔہے مجھےBadiuzzaman Khawar (1938–1990)