Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. لوگ کہتے ہیں مورکھملاقات کا سلسلہ ختم ہےGhalib Ahmad (b. 1928)
  2. بھٹک رہا ہوں خلاؤں میں گم شدہ کی طرحسکوت سنگ نے ٹھکرا دیا صدا کی طرحKailash Mahir (b. 1928)
  3. پورب دیس کی یادیں لایا پھر موسم کا تیکھا پنمجھ سے پہروں انس کرے ہے تنہائی کا سونا پنKailash Mahir (b. 1928)
  4. تاب فرقت بھی نہیں ضبط کا یارا بھی نہیںاسے گھبرا کے بھلا دیں یہ گوارا بھی نہیںKailash Mahir (b. 1928)
  5. تنہائی جہاں ذکر رخ یار کرے ہےہر غم کو چراغ سر دیوار کرے ہےKailash Mahir (b. 1928)
  6. جانے کیا سوچ کے ہم تجھ سے وفا کرتے ہیںقرض ہے پچھلے جنم کا سو ادا کرتے ہیںKailash Mahir (b. 1928)
  7. سائے ہیں گوش بر آواز ذرا آہستہمونسو آج کی شب ذکر وفا آہستہKailash Mahir (b. 1928)
  8. کچھ ہو ساقی یہ ترا جام عنایت تو نہیںدل میں حسرت ہے مگر ہاتھ میں طاقت تو نہیںKailash Mahir (b. 1928)
  9. کسی برگد کا سر راہ نہ احسان لیااپنا سایہ تھا کڑی دھوپ میں خود تان لیاKailash Mahir (b. 1928)
  10. کیسا جشن بہار ہے اپناگل پہ سایہ بھی بار ہے اپناKailash Mahir (b. 1928)
  11. لہو نہ آنکھ سے ٹپکا نہ زخم دل ابھرےبھری بہار کے یہ دن بہت گراں گزرےKailash Mahir (b. 1928)
  12. نیرنگیٔ بہار جنوں ہم بھی دیکھ لیںکیا گل کھلائے گریۂ شبنم بھی دیکھ لیںKailash Mahir (b. 1928)
  13. ہر خوشی کو غموں میں ڈھالا ہےآرزوؤں کا بول بالا ہےKailash Mahir (b. 1928)
  14. ہم نوا ملتا تو آواز کا سودا کرتےہم کہاں آ گئے پرچھائیں کا پیچھا کرتےKailash Mahir (b. 1928)
  15. یہ بھی کیا کم ہے کہ اس بزم سے ہشیار چلےپارسا آئے تھے ہم بن کے گنہ گار چلےKailash Mahir (b. 1928)
  16. ابھی فضاؤں میں طاری ہے مضطرب سا سکوںابھی خلاؤں میں آواز گونج جاتی ہےKailash Mahir (b. 1928)
  17. اپنے ماضی کا آئینہ لے کرجانے کب سے اداس بیٹھا ہوںKailash Mahir (b. 1928)
  18. راکھ ہی راکھ ہے اس ڈھیر میں کیا رکھا ہےکھوکھلی آنکھیں جہاں بہتا رہا آب حیاتKailash Mahir (b. 1928)
  19. مجھے ایسا محسوس ہونے لگا ہےکتابیں قلم میز کرسی یہ البمKailash Mahir (b. 1928)
  20. ہم سفر تو نے ادھر کاش نہ دیکھا ہوتاکم نگاہی نے تری کیسی کشش چھلکا دیKailash Mahir (b. 1928)
  21. یہ بھی کیا کم ہے کہ تو نے مجھے پہچان لیاوہ بھی کیا رات تھی جب تجھ سے ملاقات ہوئیKailash Mahir (b. 1928)
  22. طلوع صبح فردا کی منادی بھی ذرا سن لویہ ایٹم جب پھٹے گا تو قیامت چار سو ہوگیKailash Mahir (b. 1928)
  23. بہت دور کیوں بھیڑ سے میں کھڑا ہوںمجھے لوگ کیوں دیر سے تک رہے ہیںKailash Mahir (b. 1928)
  24. ذرا تم دریچے سے باہر تو جھانکوکون نالہ کناں ہے یہ کیسی فغاں ہےKailash Mahir (b. 1928)
  25. غزالہکئی بار پوچھا ہے میں نےKailash Mahir (b. 1928)
  26. فضائیں تلملا اٹھیں جو میں نے گنگنا دیاحیات رسمسا گئی جو میں نے مسکرا دیاKailash Mahir (b. 1928)
  27. یہ گو دھول بیلافضا جیسے گھر لوٹتی گائے بھینسوں کا ریوڑKailash Mahir (b. 1928)
  28. تم بھی اس شہر میں بن جاؤ گے پتھر جیسےہنسنے والا یہاں کوئی ہے نہ رونے والاKailash Mahir (b. 1928)
  29. آہ مضراب محبت کے سوا کچھ بھی نہیںساز آہوں کی عبادت کے سوا کچھ بھی نہیںQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  30. اب اس کا اور کیا انجام ہوگامحبت کر کے جو بدنام ہوگاQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  31. بس اب ہم سے دل شوریدہ سر دیکھا نہیں جاتایہ تڑپانا تڑپنا رات بھر دیکھا نہیں جاتاQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  32. بہت مشکل سہی لیکن بصد مشکل بھی دیکھیں گےکہ انوار حقیقت طالبان دل بھی دیکھیں گےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  33. تم نے کیوں ہنس کے مجھے ایک نظر دیکھ لیاآج کیا آ گئی جی میں جو ادھر دیکھ لیاQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  34. تیری بے رخی مری موت تھی ہوا التفات کبھی کبھیترے التفات کی خیر ہو کہ ملی حیات کبھی کبھیQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  35. جب تری زلف سیہ فام سنورتی ہوگیکتنی دنیا ترے جلوؤں سے نکھرتی ہوگیQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  36. جلوہ فروز دل میں ہے وہ گلعذار آجاف رے خزاں رسیدہ چمن کی بہار آجQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  37. جو ممکن ہو تو سوز شمع پروانے میں رکھ دینااب اس افسانے کا عنوان افسانے میں رکھ دیناQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  38. حسین اور اس پہ خودبیں وہ ستمگر یوں بھی ہے یوں بھینظارہ قبضۂ قدرت سے باہر یوں بھی ہے یوں بھیQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  39. علاوہ جلوۂ معنی کے کل جہاں دیکھاجو چیز دیکھنے کی تھی اسے کہاں دیکھاQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  40. عمر تھوڑی ہے اور کام بہتزندگی بھی ہے تیز گام بہتQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  41. فریاد نہیں اشک نہیں آہ نہیں ہےاے عشق ترا کوئی ہوا خواہ نہیں ہےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  42. ہر طبیعت کو جہاں پیار بھری خو کہیےکون سے پھول کو اس باغ کی خوشبو کہیےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  43. ہر نفس تازہ مصیبت عمر بھر دیکھا کیےدیکھنے کی شے نہ تھی دنیا مگر دیکھا کیےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  44. ہیں وقت کے محکوم تو بہکیں گے قدم اوربدلے ہوئے حالات میں کھو جائیں گے ہم اورQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  45. صاف انکار اگر ہو تو تسلی ہو جائےجھوٹے وعدوں سے ترے رنج سوا ہوتا ہےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  46. آہ بھی حرف دعا ہو جیسےاک دکھی دل کی صدا ہو جیسےA G Josh (1928–2007)
  47. اتنا احسان تو ہم پر وہ خدارا کرتےاپنے ہاتھوں سے جگر چاک ہمارا کرتےA G Josh (1928–2007)
  48. اک ذرا تم سے شناسائی ہوئیشہر بھر میں میری رسوائی ہوئیA G Josh (1928–2007)
  49. جب کبھی ذکر یار کا آیاایک جھونکا بہار کا آیاA G Josh (1928–2007)
  50. جینا کب تک محال ہوگاآخر اک دن وصال ہوگاA G Josh (1928–2007)