Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. چاندنی رات میں اندھیرا تھااس طرح بے بسی نے گھیرا تھاA G Josh (1928–2007)
  2. زخم کھاتے ہیں اور مسکراتے ہیں ہمحوصلہ اپنا خود آزماتے ہیں ہمA G Josh (1928–2007)
  3. سر راہے کبھی کبھار سہیرس بھری اک نگاہ یار سہیA G Josh (1928–2007)
  4. سونا سونا دل کا مجھے نگر لگتا ہےاپنے سائے سے بھی آج تو ڈر لگتا ہےA G Josh (1928–2007)
  5. شباب آ گیا اس پر شباب سے پہلےدکھائی دی مجھے تعبیر خواب سے پہلےA G Josh (1928–2007)
  6. کوئی شکوہ تو زیر لب ہوگاکچھ خموشی کا بھی سبب ہوگاA G Josh (1928–2007)
  7. گزرے جو اپنے یاروں کی صحبت میں چار دنایسا لگا بسر ہوئے جنت میں چار دنA G Josh (1928–2007)
  8. ممکن ہے شب ہجر دعا کا نہ اثر ہوہے رات وہ کیا رات کہ جس کی نہ سحر ہوA G Josh (1928–2007)
  9. موت بھی میری دسترس میں نہیںاور جینا بھی اپنے بس میں نہیںA G Josh (1928–2007)
  10. نہ سوچنا کہ زمانے سے ڈر گئے ہم بھیتری تلاش میں غیروں کے گھر گئے ہم بھیA G Josh (1928–2007)
  11. ہر ملاقات میں لگتے ہیں وہ بیگانے سےفائدہ کیا ہے بھلا ایسوں کے یارانے سےA G Josh (1928–2007)
  12. آج کی رات کٹے گی کیوں کر ساز نہ جام نہ تو مہمانصبح تلک کیا جانئے کیا ہو آنکھ لگے یا جائے جانIbn-e-Safi (1928–1980)
  13. بڑے غضب کا ہے یارو بڑے عذاب کا زخماگر شباب ہی ٹھہرا مرے شباب کا زخمIbn-e-Safi (1928–1980)
  14. چھلکتی آئے کہ اپنی طلب سے بھی کم آئےہمارے سامنے ساقی بہ ساغر جم آئےIbn-e-Safi (1928–1980)
  15. ذہن سے دل کا بار اترا ہےپیرہن تار تار اترا ہےIbn-e-Safi (1928–1980)
  16. راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیںچاند سے مکھڑے رشک غزالاں سب جانے پہچانے ہیںIbn-e-Safi (1928–1980)
  17. کچھ بھی تو اپنے پاس نہیں جز متاع دلکیا اس سے بڑھ کے اور بھی کوئی ہے امتحاںIbn-e-Safi (1928–1980)
  18. کچھ تو تعلق کچھ تو لگاؤمیرے دشمن ہی کہلاؤIbn-e-Safi (1928–1980)
  19. لب و رخسار و جبیں سے ملئےجی نہیں بھرتا کہیں سے ملئےIbn-e-Safi (1928–1980)
  20. یوں ہی وابستگی نہیں ہوتیدور سے دوستی نہیں ہوتیIbn-e-Safi (1928–1980)
  21. رات کے پر کیف سناٹے میں بنسی کی صداچاندنی کے سیم گوں شانے پہ لہراتی ہوئیIbn-e-Safi (1928–1980)
  22. جب سر شام کوئی یاد مچل جاتی ہےدل کے ویرانے میں اک شمع سی جل جاتی ہےKaleem Usmani (1928–2000)
  23. رات پھیلی ہے تیرے سرمئی آنچل کی طرحچاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے پاگل کی طرحKaleem Usmani (1928–2000)
  24. رات کی زلفیں بھیگی بھیگی اور عالم تنہائی کاکتنے درد جگا دیتا ہے اک جھونکا پروائی کاKaleem Usmani (1928–2000)
  25. ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہتپھر بھی رہتا ہے ہمیں احساس تنہائی بہتKaleem Usmani (1928–2000)
  26. جب کسی نے قد و گیسو کا فسانہ چھیڑابات بڑھ کے رسن و دار تک آ پہنچی ہےKaleem Usmani (1928–2000)
  27. ہے زیب گلو کب سے مرے دار کا پھندامجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتےKaleem Usmani (1928–2000)
  28. کیا زمیں کیا آسماں کچھ بھی نہیںہم نہ ہوں تو یہ جہاں کچھ بھی نہیںAafaque Siddiqui (b. 1928)
  29. نکلے سفر کو پیدل وہ چار ہم سفر تھےسب اپنے راستے اور منزل سے باخبر تھےAafaque Siddiqui (b. 1928)
  30. دانستہ ہم نے اپنے سبھی غم چھپا لیےپوچھا کسی نے حال تو بس مسکرا دئیےAafaque Siddiqui (b. 1928)
  31. بہتر دنوں کی آس لگاتے ہوئے حبیبؔہم بہترین دن بھی گنواتے چلے گئےHabeeb Amrohvi (1928–1999)
  32. کیوں مجھ کو نذر آتش احساس کر دیاکیوں جان ڈال کر مری مٹی خراب کیHabeeb Amrohvi (1928–1999)
  33. تیرے الطاف کا لطف اٹھاتے رہےنور برسا کیا ہم نہاتے رہےYashpal Gupta (b. 1928)
  34. یوں باغ کوئی ہم نے اجڑتا نہیں دیکھامدت سے کسی پھول کا چہرہ نہیں دیکھاYashpal Gupta (b. 1928)
  35. متاعِ دل سے خالی ہوگئے ہیںترے در کے سوالی ہو گئے ہیںSaghar Siddiqui (1928–1974)
  36. آپ اپنے کو معتبر کر لیںملنے والوں کے دل میں گھر کر لیںGhani Ejaz (1929–2010)
  37. آدمی کی حیات مٹھی بھریعنی کل کائنات مٹھی بھرGhani Ejaz (1929–2010)
  38. ادھوری ناشنیدہ داستاں ہوںکہ شاید میں سماعت پر گراں ہوںGhani Ejaz (1929–2010)
  39. انداز فکر اہل جہاں کا جدا رہاوہ مجھ سے خوش رہے تو زمانہ خفا رہاGhani Ejaz (1929–2010)
  40. بجلی کی زد میں ایک مرا آشیاں نہیںوہ کون سی زمیں ہے جہاں آسماں نہیںGhani Ejaz (1929–2010)
  41. بجلی گری تو سوچ کے سب تار کٹ گئےیک لخت روشنی سے اندھیرے لپٹ گئےGhani Ejaz (1929–2010)
  42. بزم عالم میں سدا ہم بھی نہیں تم بھی نہیںمنکر روز جزا تم بھی نہیں ہم بھی نہیںGhani Ejaz (1929–2010)
  43. بے وفا کے وعدہ پر اعتبار کرتے ہیںوہ نہ آئے گا پھر بھی انتظار کرتے ہیںGhani Ejaz (1929–2010)
  44. پرندہ حد نظر تک جو آسمان میں ہےپروں میں زور کہاں حوصلہ اڑان میں ہےGhani Ejaz (1929–2010)
  45. تشنہ لب ہوں اداس بیٹھا ہوںمیں سمندر کے پاس بیٹھا ہوںGhani Ejaz (1929–2010)
  46. تمہیں خبر بھی ہے یہ تم نے کس سے کیا مانگابھنور میں ڈوبنے والوں سے آسرا مانگاGhani Ejaz (1929–2010)
  47. تھکن غالب ہے دم ٹوٹے ہوئے ہیںسفر جاری قدم ٹوٹے ہوئے ہیںGhani Ejaz (1929–2010)
  48. تیر جیسے کمان سے نکلاحرف حق تھا زبان سے نکلاGhani Ejaz (1929–2010)
  49. جور بے جا کو جو کہتے ہو بجا ہے وہ بھیدست قاتل پہ لہو ہے کہ حنا ہے وہ بھیGhani Ejaz (1929–2010)
  50. خواہشیں اپنی سرابوں میں نہ رکھے کوئیان ہواؤں کو حبابوں میں نہ رکھے کوئیGhani Ejaz (1929–2010)