ہم نوا ملتا تو آواز کا سودا کرتے
Kailash Mahir (b. 1928)ہم نوا ملتا تو آواز کا سودا کرتے
ہم کہاں آ گئے پرچھائیں کا پیچھا کرتے
رنگ و بو ذہن کی دیوار بنے ہیں ورنہ
تیری تصویر بناتے تری پوجا کرتے
دن سے دن ہوتے نہ یہ رات سی راتیں ہوتیں
کسی ہم درد سے جو درد کا رشتہ کرتے
کوئی غم پاؤں کی زنجیر کہاں تک ہوگا
جوگیا پہن کے بازار میں گھوما کرتے
یہ بھی کیا کم ہے ترے نام پہ جیتے ہیں ابھی
ہونٹ جل جاتے اگر ہم کوئی شکوہ کرتے
کوئی کھنڈر کوئی گرتی ہوئی دیوار سہی
کٹ گئی عمر یہاں جسم کو سایہ کرتے