ہر خوشی کو غموں میں ڈھالا ہے

Kailash Mahir (b. 1928)

ہر خوشی کو غموں میں ڈھالا ہے

آرزوؤں کا بول بالا ہے

اپنا سایہ بھی اجنبی ہوگا

آخری موڑ آنے والا ہے

ملنا چاہو تو سو بہانے ہیں

ورنہ ہر موڑ پر اجالا ہے

واسطہ ان اداس لمحوں کا

ہم نے ہر حادثے کو پالا ہے