یہ گو دھول بیلا

Kailash Mahir (b. 1928)

یہ گو دھول بیلا

فضا جیسے گھر لوٹتی گائے بھینسوں کا ریوڑ

بہت نیم جاں

یہ سرسبز شاخیں جو دن بھر کسی پھول کا تاج پہنے ہوئے

رقص کرتی رہیں تھک چکی ہیں

ابھی جیسے سرگوشیاں کر رہی ہیں

سیاہی کا چڑھتا سمندر اگر شب گئے تک نہ اترا تو کیا ہے

مری گود میں غنچۂ گل ہنسے گا

ادھر پو پھٹے گی