اپنے ماضی کا آئینہ لے کر
Kailash Mahir (b. 1928)اپنے ماضی کا آئینہ لے کر
جانے کب سے اداس بیٹھا ہوں
ان دنوں کوئی مدعا بھی نہیں
ان دنوں میں نے کچھ لکھا بھی نہیں
ان دنوں ذہن سوچتا بھی نہیں
ان دنوں دل میں اک خیال سا ہے
اپنے ہونے کا کچھ ملال سا ہے
اپنے ماضی کا آئینہ لے کر
جانے کب سے اداس بیٹھا ہوں
ان دنوں کوئی مدعا بھی نہیں
ان دنوں میں نے کچھ لکھا بھی نہیں
ان دنوں ذہن سوچتا بھی نہیں
ان دنوں دل میں اک خیال سا ہے
اپنے ہونے کا کچھ ملال سا ہے