کچھ ہو ساقی یہ ترا جام عنایت تو نہیں

Kailash Mahir (b. 1928)

کچھ ہو ساقی یہ ترا جام عنایت تو نہیں

دل میں حسرت ہے مگر ہاتھ میں طاقت تو نہیں

شام ہجراں میں کبھی پہلے اجالا نہ ہو

شامل درد کوئی چشم عنایت تو نہیں

اک اچٹتا سا کرم بھی نہ میسر آیا

اہل غم سے تری نظروں کو عداوت تو نہیں

بخشش عام سہی تیری نگاہوں میں مگر

اپنا دامن کبھی پھیلاؤں یہ عادت تو نہیں