جب کبھی ذکر یار کا آیا

A G Josh (1928–2007)

جب کبھی ذکر یار کا آیا

ایک جھونکا بہار کا آیا

عشق کچے گھڑے پہ ڈوب گیا

لمحہ جب انتظار کا آیا

آ گئے دل میں وسوسے کتنے

وقت جب اعتبار کا آیا

پاس تیر و کماں نہ تھے اپنے

جب بھی موسم شکار کا آیا

ہم نے ٹھکرا دیا جہاں کو جوشؔ

مرحلہ جب وقار کا آیا