بھٹک رہا ہوں خلاؤں میں گم شدہ کی طرح

Kailash Mahir (b. 1928)

بھٹک رہا ہوں خلاؤں میں گم شدہ کی طرح

سکوت سنگ نے ٹھکرا دیا صدا کی طرح

مرے وجود کو پگھلا رہی ہے برف کی آنچ

مگر وہ چپ سی لگی ہے مجھے خدا کی طرح

عجیب شہر ہے پرچھائیاں چمکتی ہیں

ہر اجنبی مجھے لگتا ہے آشنا کی طرح

چلا تھا گھر سے نکل کر پہاڑ کی جانب

پلٹ کے آ گیا بستی میں پھر صدا کی طرح

دھری رہے گی یہ خوشبو کی کھوکھلی زنجیر

ہر ایک رنگ سے اڑ جاؤں گا ہوا کی طرح

گری تھی اوس جو کل شب بدن کے صحرا میں

یہ بات پھیل گئی شہر میں وبا کی طرح

ہمیں ہواؤں کی ٹھوکر بھی راس آ نہ سکی

پڑے ہیں وقت کے رستے میں نقش پا کی طرح