یہ بھی کیا کم ہے کہ اس بزم سے ہشیار چلے

Kailash Mahir (b. 1928)

یہ بھی کیا کم ہے کہ اس بزم سے ہشیار چلے

پارسا آئے تھے ہم بن کے گنہ گار چلے

دیکھیے کون ہے شوریدہ سروں کا ہم گام

زلف شب رنگ چلے سایۂ دیوار چلے

اپنی آشفتہ سری اب تو متاع جاں ہے

نقد دل نقد سکوں تیرے لیے ہار چلے

عشق میں اس سے حسیں داد جنوں کیا ماہرؔ

زندگی تیری تمنا میں تجھے ہار چلے