Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. دل مضمحل ہے تیری نوازش کے باوجودیہ سرزمیں اداس ہے بارش کے باوجودLais Quraishi (b. 1922)
  2. سکوت لب کو مرے عرض حال ہی سمجھومری انائے خفی کو سوال ہی سمجھوLais Quraishi (b. 1922)
  3. ضمیر و ذہن سے کی ہیں بغاوتیں کیا کیامنافقوں سے نبھائیں رفاقتیں کیا کیاLais Quraishi (b. 1922)
  4. عمر بھر خواب محبت سے نہ بیدار ہوئےاسی کردار سے ہم صاحب کردار ہوئےLais Quraishi (b. 1922)
  5. کسی گماں کسی امکاں کا رخ نہیں کرتینگاہ جلوۂ ارزاں کا رخ نہیں کرتیLais Quraishi (b. 1922)
  6. کہیں سے بھی سخن معتبر نہیں آتانظر ہمیں کوئی اہل نظر نہیں آتاLais Quraishi (b. 1922)
  7. کئی پیام برائے سکون جاں تو ملےمگر تمام ہوئی اپنی داستاں تو ملےLais Quraishi (b. 1922)
  8. مسکرا سکتا نہیں آنسو بہا سکتا نہیںزندگی اب میں ترے احساں اٹھا سکتا نہیںLais Quraishi (b. 1922)
  9. نہیں یہ بات کہ پرواز کا ارادہ نہیںفضائے گلشن ہستی مگر کشادہ نہیںLais Quraishi (b. 1922)
  10. یہ آرزو ہیں ہم کوئی آرزو کرتےاسیر خود کو نہ ہم دام رنگ و بو کرتےLais Quraishi (b. 1922)
  11. یہ مسئلہ ہے اور کوئی مسئلہ نہیںاپنا حریف میں ہوں کوئی دوسرا نہیںLais Quraishi (b. 1922)
  12. تلخابۂ حیات پیا ہے تمام عمراب اور کیا ملائے گا ساقی شراب میںLais Quraishi (b. 1922)
  13. مری سمجھ میں نہ آیا یہ کاروبار حیاتکہاں ہے نفع کہاں ہے ضرر نہیں معلومLais Quraishi (b. 1922)
  14. یہی بہت ہے کہ زندہ ہیں قید زیست میں ہمیہ کیسی شام ہے کیسی سحر نہیں معلومLais Quraishi (b. 1922)
  15. آج پھر دشت کوئی آبلہ پا مانگے ہےخار بھی تازگئ رنگ حنا مانگے ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  16. آج مائل بہ کرم اک بت رعنائی ہےساری دنیا مرے دامن میں سمٹ آئی ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  17. آؤ تقدیر کو تدبیر بنا کر دیکھیںان اندھیروں کو اجالوں سے ملا کر دیکھیںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  18. اتنا ہے زندگی کا تعلق خوشی کے ساتھایک اجنبی ہو جیسے کسی اجنبی کے ساتھBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  19. اک عمر گزاری ہے تب راز یہ سمجھا ہےجو کچھ ہے محبت ہے دنیا ہے یہ عقبیٰ ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  20. بکھیرے زلف رخ پر کون یہ بالائے بام آیاخیالوں کی فضا مہکی بہاروں کا پیام آیاBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  21. جو سمجھنا چاہیے تھا وہ کہاں سمجھا تھا میںاس جہان رنگ و بو کو خاکداں سمجھا تھا میںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  22. حرف معنی سے جدا ہو جیسےزندگی کوئی سزا ہو جیسےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  23. درد سمجھے نہ کوئی درد کا درماں سمجھےلوگ وحشت کو علاج غم دوراں سمجھےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  24. دلبر کہا رفیق کہا چارہ گر کہاجو کچھ بھی تم کو ہم نے کہا سوچ کر کہاBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  25. دل کا سکون آنکھ کا تارا کسے کہیںیہ سوچنا پڑا ہے کہ اپنا کسے کہیںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  26. رنج نا آسودگی کرب ہنر دیکھے گا کوننقش فریادی ہے کس کا دیدہ ور دیکھے گا کونBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  27. روداد شوق یہ ہے مری مختصر تمامرعنائیوں میں کھو گیا ذوق نظر تمامBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  28. کرب میں پیار کے نغمات سنائیں کیسےغم حقیقت سے حقیقت کو چھپائیں کیسےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  29. کوئی خدشہ ہے نہ طوفان بلا کچھ بھی نہیںاب نہ غمزہ ہے نہ انداز و ادا کچھ بھی نہیںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  30. نکہت و رنگ نہ موسم کی ہوا ٹھہری ہےگل کی قسمت میں بہ ہر حال فنا ٹھہری ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  31. نہ پوچھو وجہ میری چشم تر کیمیاں پھر گر گئی دیوار گھر کیBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  32. ہجوم یاس میں جینا بھی اک عذاب ہوایہی ہوا کہ محبت میں دل خراب ہواBakhtiyar Ziya (1922–1984)
  33. اتنا پرجوش میرے درد کا دھارا تو نہ تھاکیا پس پردہ کہیں قرب تمہارا تو نہ تھاJalee Amrohvi (1922–2013)
  34. بستی بستی کوچہ کوچہ شہر کو لالہ فام کیادیکھو تو ان اہل ہوس نے کیسا قتل عام کیاJalee Amrohvi (1922–2013)
  35. چھپ گیا سورج یہ کہہ کر شام سےلے سبق دنیا مرے انجام سےJalee Amrohvi (1922–2013)
  36. دست نازک سے جو پردے کو سنوارا تم نےمیں یہ سمجھا کہ نوازش سے پکارا تم نےJalee Amrohvi (1922–2013)
  37. دل ہے وابستہ مرا حسرت ناکام کے ساتھتازہ ہو جاتے ہیں سب زخم ترے نام کے ساتھJalee Amrohvi (1922–2013)
  38. دونوں عالم سے عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھاتو ہی تو جلوہ کناں تھا مجھے معلوم نہ تھاJalee Amrohvi (1922–2013)
  39. نفس سے جو لڑا نہیں کرتےروح پر وہ جلا نہیں کرتےJalee Amrohvi (1922–2013)
  40. وحشتوں میں عشق کی وہ شانہ فرمائیں گے کیازندگی الجھی ہوئی ہے بال سلجھائیں گے کیاJalee Amrohvi (1922–2013)
  41. وہم و گماں نے آس بندھائی تمام راتآہٹ خرام ناز کی آئی تمام راتJalee Amrohvi (1922–2013)
  42. آپ آتے ہیں تو آ جائیں مگر یہ شرط ہےمجھ سے برگشتہ نہ ہو جائیں مری تنہائیاںJalee Amrohvi (1922–2013)
  43. موت آ جائے یا وہ آ جائیںآج قصہ تمام ہو جائےJalee Amrohvi (1922–2013)
  44. اگر ہیں خار الم آدمی کے دامن میںخوشی کے پھول بھی تو ہیں اسی کے دامن میںBaldev singh Hamdam (b. 1922)
  45. تمنا ہے تمنا میں تری جی سے گزر جائیںیہی ہے آرزو اپنی اسی خواہش میں مر جائیںBaldev singh Hamdam (b. 1922)
  46. جنوں بغیر کبھی آگہی نہیں ہوتیجلے نہ شمع تو کچھ روشنی نہیں ہوتیBaldev singh Hamdam (b. 1922)
  47. جو بات رہے دل میں وہی بات بڑی ہےالفت کا تقاضا بھی یہی کم سخنی ہےBaldev singh Hamdam (b. 1922)
  48. روشنی ہو نہ سکی شام کے ہنگام کے ساتھاور ہم دیپ جلاتے رہے ہر شام کے ساتھBaldev singh Hamdam (b. 1922)
  49. گلوں کے دام محبت میں آ رہا ہوں میںفریب حسن مجازی کا کھا رہا ہوں میںBaldev singh Hamdam (b. 1922)
  50. ہم بھی سنتے جو ترے حسن کے چرچے ہوتےکاش اس وقت تری بزم میں بیٹھے ہوتےBaldev singh Hamdam (b. 1922)