Poetry
Poet
Meter
- دل مضمحل ہے تیری نوازش کے باوجودیہ سرزمیں اداس ہے بارش کے باوجودLais Quraishi (b. 1922)
- سکوت لب کو مرے عرض حال ہی سمجھومری انائے خفی کو سوال ہی سمجھوLais Quraishi (b. 1922)
- ضمیر و ذہن سے کی ہیں بغاوتیں کیا کیامنافقوں سے نبھائیں رفاقتیں کیا کیاLais Quraishi (b. 1922)
- عمر بھر خواب محبت سے نہ بیدار ہوئےاسی کردار سے ہم صاحب کردار ہوئےLais Quraishi (b. 1922)
- کسی گماں کسی امکاں کا رخ نہیں کرتینگاہ جلوۂ ارزاں کا رخ نہیں کرتیLais Quraishi (b. 1922)
- کہیں سے بھی سخن معتبر نہیں آتانظر ہمیں کوئی اہل نظر نہیں آتاLais Quraishi (b. 1922)
- کئی پیام برائے سکون جاں تو ملےمگر تمام ہوئی اپنی داستاں تو ملےLais Quraishi (b. 1922)
- مسکرا سکتا نہیں آنسو بہا سکتا نہیںزندگی اب میں ترے احساں اٹھا سکتا نہیںLais Quraishi (b. 1922)
- نہیں یہ بات کہ پرواز کا ارادہ نہیںفضائے گلشن ہستی مگر کشادہ نہیںLais Quraishi (b. 1922)
- یہ آرزو ہیں ہم کوئی آرزو کرتےاسیر خود کو نہ ہم دام رنگ و بو کرتےLais Quraishi (b. 1922)
- یہ مسئلہ ہے اور کوئی مسئلہ نہیںاپنا حریف میں ہوں کوئی دوسرا نہیںLais Quraishi (b. 1922)
- تلخابۂ حیات پیا ہے تمام عمراب اور کیا ملائے گا ساقی شراب میںLais Quraishi (b. 1922)
- مری سمجھ میں نہ آیا یہ کاروبار حیاتکہاں ہے نفع کہاں ہے ضرر نہیں معلومLais Quraishi (b. 1922)
- یہی بہت ہے کہ زندہ ہیں قید زیست میں ہمیہ کیسی شام ہے کیسی سحر نہیں معلومLais Quraishi (b. 1922)
- آج پھر دشت کوئی آبلہ پا مانگے ہےخار بھی تازگئ رنگ حنا مانگے ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- آج مائل بہ کرم اک بت رعنائی ہےساری دنیا مرے دامن میں سمٹ آئی ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- آؤ تقدیر کو تدبیر بنا کر دیکھیںان اندھیروں کو اجالوں سے ملا کر دیکھیںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- اتنا ہے زندگی کا تعلق خوشی کے ساتھایک اجنبی ہو جیسے کسی اجنبی کے ساتھBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- اک عمر گزاری ہے تب راز یہ سمجھا ہےجو کچھ ہے محبت ہے دنیا ہے یہ عقبیٰ ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- بکھیرے زلف رخ پر کون یہ بالائے بام آیاخیالوں کی فضا مہکی بہاروں کا پیام آیاBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- جو سمجھنا چاہیے تھا وہ کہاں سمجھا تھا میںاس جہان رنگ و بو کو خاکداں سمجھا تھا میںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- حرف معنی سے جدا ہو جیسےزندگی کوئی سزا ہو جیسےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- درد سمجھے نہ کوئی درد کا درماں سمجھےلوگ وحشت کو علاج غم دوراں سمجھےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- دلبر کہا رفیق کہا چارہ گر کہاجو کچھ بھی تم کو ہم نے کہا سوچ کر کہاBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- دل کا سکون آنکھ کا تارا کسے کہیںیہ سوچنا پڑا ہے کہ اپنا کسے کہیںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- رنج نا آسودگی کرب ہنر دیکھے گا کوننقش فریادی ہے کس کا دیدہ ور دیکھے گا کونBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- روداد شوق یہ ہے مری مختصر تمامرعنائیوں میں کھو گیا ذوق نظر تمامBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- کرب میں پیار کے نغمات سنائیں کیسےغم حقیقت سے حقیقت کو چھپائیں کیسےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- کوئی خدشہ ہے نہ طوفان بلا کچھ بھی نہیںاب نہ غمزہ ہے نہ انداز و ادا کچھ بھی نہیںBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- نکہت و رنگ نہ موسم کی ہوا ٹھہری ہےگل کی قسمت میں بہ ہر حال فنا ٹھہری ہےBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- نہ پوچھو وجہ میری چشم تر کیمیاں پھر گر گئی دیوار گھر کیBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- ہجوم یاس میں جینا بھی اک عذاب ہوایہی ہوا کہ محبت میں دل خراب ہواBakhtiyar Ziya (1922–1984)
- اتنا پرجوش میرے درد کا دھارا تو نہ تھاکیا پس پردہ کہیں قرب تمہارا تو نہ تھاJalee Amrohvi (1922–2013)
- بستی بستی کوچہ کوچہ شہر کو لالہ فام کیادیکھو تو ان اہل ہوس نے کیسا قتل عام کیاJalee Amrohvi (1922–2013)
- چھپ گیا سورج یہ کہہ کر شام سےلے سبق دنیا مرے انجام سےJalee Amrohvi (1922–2013)
- دست نازک سے جو پردے کو سنوارا تم نےمیں یہ سمجھا کہ نوازش سے پکارا تم نےJalee Amrohvi (1922–2013)
- دل ہے وابستہ مرا حسرت ناکام کے ساتھتازہ ہو جاتے ہیں سب زخم ترے نام کے ساتھJalee Amrohvi (1922–2013)
- دونوں عالم سے عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھاتو ہی تو جلوہ کناں تھا مجھے معلوم نہ تھاJalee Amrohvi (1922–2013)
- نفس سے جو لڑا نہیں کرتےروح پر وہ جلا نہیں کرتےJalee Amrohvi (1922–2013)
- وحشتوں میں عشق کی وہ شانہ فرمائیں گے کیازندگی الجھی ہوئی ہے بال سلجھائیں گے کیاJalee Amrohvi (1922–2013)
- وہم و گماں نے آس بندھائی تمام راتآہٹ خرام ناز کی آئی تمام راتJalee Amrohvi (1922–2013)
- آپ آتے ہیں تو آ جائیں مگر یہ شرط ہےمجھ سے برگشتہ نہ ہو جائیں مری تنہائیاںJalee Amrohvi (1922–2013)
- موت آ جائے یا وہ آ جائیںآج قصہ تمام ہو جائےJalee Amrohvi (1922–2013)
- اگر ہیں خار الم آدمی کے دامن میںخوشی کے پھول بھی تو ہیں اسی کے دامن میںBaldev singh Hamdam (b. 1922)
- تمنا ہے تمنا میں تری جی سے گزر جائیںیہی ہے آرزو اپنی اسی خواہش میں مر جائیںBaldev singh Hamdam (b. 1922)
- جنوں بغیر کبھی آگہی نہیں ہوتیجلے نہ شمع تو کچھ روشنی نہیں ہوتیBaldev singh Hamdam (b. 1922)
- جو بات رہے دل میں وہی بات بڑی ہےالفت کا تقاضا بھی یہی کم سخنی ہےBaldev singh Hamdam (b. 1922)
- روشنی ہو نہ سکی شام کے ہنگام کے ساتھاور ہم دیپ جلاتے رہے ہر شام کے ساتھBaldev singh Hamdam (b. 1922)
- گلوں کے دام محبت میں آ رہا ہوں میںفریب حسن مجازی کا کھا رہا ہوں میںBaldev singh Hamdam (b. 1922)
- ہم بھی سنتے جو ترے حسن کے چرچے ہوتےکاش اس وقت تری بزم میں بیٹھے ہوتےBaldev singh Hamdam (b. 1922)