Poetry
Poet
Meter
- تصور میں سلام آتے رہیں گےمحبت کے پیام آتے رہیں گےOm Parkash Bajaj (b. 1922)
- جب بھی جان بہار ملتا ہےدل کو صبر و قرار ملتا ہےOm Parkash Bajaj (b. 1922)
- جب کبھی تیری یاد آئی ہےہر کلی دل کی مسکرائی ہےOm Parkash Bajaj (b. 1922)
- دل ہے بیتاب التجا کے لئےچھیڑ دو بات ابتدا کے لئےOm Parkash Bajaj (b. 1922)
- صحن گلشن میں چاندنی دیکھیںحسن تکمیل زندگی دیکھیںOm Parkash Bajaj (b. 1922)
- شدت درد و الم سے جب بھی گھبراتا ہوں میںتیرے نغموں کی گھنی چھاؤں میں آ جاتا ہوں میںOm Parkash Bajaj (b. 1922)
- زندگی راحت جاں درد دل زار بھی ہےبانجھ کھیتی بھی ہے اور کشت گہر بار بھی ہےOm Parkash Bajaj (b. 1922)
- بھول جانا تھا تو پھر اپنا بنایا کیوں تھاتم نے الفت کا یقیں مجھ کو دلایا کیوں تھاSaba Afghani (1922–1976)
- راز ہے بہت گہرا بات اک ذرا سی ہےوہ میں سامنے پھر بھی چشم شوق پیاسی ہےSaba Afghani (1922–1976)
- سامنے ان کو پایا تو ہم کھو گئے آج پھر حسرت گفتگو رہ گئیان سے کہنا تھا روداد شام الم دل کی دل ہی میں یہ آرزو رہ گئیSaba Afghani (1922–1976)
- کارواں لٹ گیا راہبر چھٹ گیا رات تاریک ہے غم کا یارا نہیںراہ میں بھی کوئی شمع جلتی نہیں آسماں پر بھی کوئی ستارا نہیںSaba Afghani (1922–1976)
- گلشن کی فقط پھولوں سے نہیں کانٹوں سے بھی زینت ہوتی ہےجینے کے لئے اس دنیا میں غم کی بھی ضرورت ہوتی ہےSaba Afghani (1922–1976)
- لٹا کے راہ محبت میں ہر خوشی میں نےلیا ہے غم کا سہارا ابھی ابھی میں نےSaba Afghani (1922–1976)
- ہوش و خرد سے دور ہوں سود و زیاں سے دورحد نظر سے دور زمان و مکاں سے دورSaba Afghani (1922–1976)
- اب تو بوسیدہ ہو چلے ہیں ہمٹوٹنے پھوٹنے لگے ہیں ہمEhsan Ali Khan (1922–1991)
- پھر اندھیروں نے راستے روکےپھر نئے خضر ہیں نئے دھوکےEhsan Ali Khan (1922–1991)
- حفظ گل کے لئے رکھتے جو نگہباں کچھ اورہو گیا پھولوں سے محروم گلستاں کچھ اورEhsan Ali Khan (1922–1991)
- ہماری سمت ہیں سارے ڈھلاؤپڑا ہر سیل کا ہم پر دباؤEhsan Ali Khan (1922–1991)
- مرے کپڑوں کو کیڑے کھا گئے تو میں نے یہ سوچامرے ننگے بدن کا بھی یہی انجام ہونا ہےEhsan Ali Khan (1922–1991)
- اشکوں کے نشاں پرچۂ سادہ پہ ہیں قاصداب کچھ نہ بیاں کر یہ عبارت ہی بہت ہےEhsan Ali Khan (1922–1991)
- آئینۂ وحشت کو جلا جس سے ملی ہےوہ گرد رہ ترک مراسم سے اٹھی ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
- اک ایسا مرحلۂ رہ گزر بھی آتا ہےکوئی فصیل انا سے اتر بھی آتا ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
- تم ہو جو کچھ کہاں چھپاؤ گےلکھنے والو نظر تو آؤ گےUmmeed Fazli (1923–2005)
- جانے یہ کیسا زہر دلوں میں اتر گیاپرچھائیں زندہ رہ گئی انسان مر گیاUmmeed Fazli (1923–2005)
- حجاب اٹھے ہیں لیکن وہ رو بہ رو تو نہیںشریک عشق کہیں کوئی آرزو تو نہیںUmmeed Fazli (1923–2005)
- خواب آنکھوں میں سجائے رکھناعزم کے دیپ جلائے رکھناUmmeed Fazli (1923–2005)
- کب تک اس پیاس کے صحرا میں جھلستے جائیںاب یہ بادل جو اٹھے ہیں تو برستے جائیںUmmeed Fazli (1923–2005)
- کسی سے اور تو کیا گفتگو کریں دل کیکہ رات سن نہ سکے ہم بھی دھڑکنیں دل کیUmmeed Fazli (1923–2005)
- مقتل جاں سے کہ زنداں سے کہ گھر سے نکلےہم تو خوشبو کی طرح نکلے جدھر سے نکلےUmmeed Fazli (1923–2005)
- ناز کر ناز کہ یہ ناز جدا ہے سب سےمیرا لہجہ مری آواز جدا ہے سب سےUmmeed Fazli (1923–2005)
- وہ خواب ہی سہی پیش نظر تو اب بھی ہےبچھڑنے والا شریک سفر تو اب بھی ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
- ہائے اک شخص جسے ہم نے بھلایا بھی نہیںیاد آنے کی طرح یاد وہ آیا بھی نہیںUmmeed Fazli (1923–2005)
- ہم ہیں بس اتنے ہی ساحل آشناخاک منزل جتنی منزل آشناUmmeed Fazli (1923–2005)
- آسمانوں سے فرشتے جو اتارے جائیںوہ بھی اس دور میں سچ بولیں تو مارے جائیںUmmeed Fazli (1923–2005)
- جانے کب طوفان بنے اور رستا رستا بچھ جائےبند بنا کر سو مت جانا دریا آخر دریا ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
- جب سے امیدؔ گیا ہے کوئی!!لمحے صدیوں کی علامت ٹھہرےUmmeed Fazli (1923–2005)
- کل اس کی آنکھ نے کیا زندہ گفتگو کی تھیگمان تک نہ ہوا وہ بچھڑنے والا ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
- گھر تو ایسا کہاں کا تھا لیکندر بدر ہیں تو یاد آتا ہےUmmeed Fazli (1923–2005)
- یہ سرد رات یہ آوارگی یہ نیند کا بوجھہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتےUmmeed Fazli (1923–2005)
- انسان نہیں وہ جو گنہ گار نہیں ہیںوہ کون سا گلشن ہے جہاں خار نہیں ہیںD. Raj Kanwal (b. 1923)
- پھول جو صحن بیاباں میں جواں ہوتا ہےعظمت فصل بہاراں کا نشاں ہوتا ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- چھوڑ کر جنت جدھر بھی حضرت آدم گئےساتھ ساتھ ان کے ہزاروں کاروان غم گئےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- دنیا پتھر پھینک رہی ہے جھنجھلا کر فرزانوں پراب وہ کیا الزام دھرے گی ہم جیسے دیوانوں پرD. Raj Kanwal (b. 1923)
- دنیا میں دل لگا کے بہت سوچتے رہےکانٹوں کو گدگدا کے بہت سوچتے رہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- رات دو رات کا بسیرا ہےزندگی جوگیوں کا پھیرا ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- کاندھوں پہ زندگی کی صلیبیں لئے ہوئےغم پھر رہے ہیں میرا پتہ پوچھتے ہوئےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- کسی نے با وفا سمجھا کسی نے بے وفا سمجھامجھے غیروں نے کیا سمجھا مجھے اپنوں نے کیا سمجھاD. Raj Kanwal (b. 1923)
- کھلتی ہے چاندنی جہاں وہ کوئی بام اور ہےدل کو جہاں سکوں ملے وہ تو مقام اور ہےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- لوگ جن کو آج تک بار گراں سمجھا کئےہم انہیں لمحوں کو عمر جاوداں سمجھا کئےD. Raj Kanwal (b. 1923)
- نظروں کے گرد یوں تو کوئی دائرہ نہ تھااپنے سوائے کچھ بھی مگر سوجھتا نہ تھاD. Raj Kanwal (b. 1923)