جو سمجھنا چاہیے تھا وہ کہاں سمجھا تھا میں

Bakhtiyar Ziya (1922–1984)

جو سمجھنا چاہیے تھا وہ کہاں سمجھا تھا میں

اس جہان رنگ و بو کو خاکداں سمجھا تھا میں

وقت کی ٹھوکر نے ظاہر کر دئے جوہر مرے

زندگی کو اپنی سنگ رائیگاں سمجھا تھا میں

اس نے بھر دی جان و دل میں اک نئی تابندگی

جس نگاہ گرم کو برق تپاں سمجھا تھا میں

اپنی ہی کوتاہ دستی کا نکل آیا قصور

کل جسے بے مہرئی پیر مغاں سمجھا تھا میں