کرب میں پیار کے نغمات سنائیں کیسے

Bakhtiyar Ziya (1922–1984)

کرب میں پیار کے نغمات سنائیں کیسے

غم حقیقت سے حقیقت کو چھپائیں کیسے

لب و عارض کے تقاضوں کو بھلا کر یارو

دور آ پہنچے ہیں اب لوٹ کے جائیں کیسے

ان گنت جام پئے ذلت و رسوائی کے

زندگی اور ترے ناز اٹھائیں کیسے

دل جو دکھتا ہے ضیاؔ آنکھ بھی بھر آتی ہے

لوگ فطرت کے تقاضوں کو چھپائیں کیسے