Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. زبان مے کدہ میں جس کو مے کش جام کہتے ہیںاسے ہم اپنے دل کا دوسرا اک نام کہتے ہیںEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  2. ساغر میں بھی ڈھلتی رہتی ہے سجدوں میں بھی پلتی رہتی ہےخواہش ہے بہر حال ایک مگر سو بھیس بدلتی رہتی ہےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  3. سمجھ سکتے نہیں جو تیرے ماتھے کی شکن ساقیوہ کیا جانیں کہ ہے بادہ کشی بھی ایک فن ساقیEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  4. شاعر ہوئے تو کیا ہوئے احسانؔ ہی رہےمرزاؔ و میرؔ بن نہ سکے خان ہی رہےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  5. شکن جبیں پہ نہ لائے نظر جھکا کے چلےخودی کی لاش اٹھانی ہی تھی اٹھا کے چلےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  6. شوق نظارہ جو سرگرم نظر ہوتا ہےجلوہ گر حسن بہ انداز دگر ہوتا ہےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  7. طاری مرے شعور پہ وجدان ہی رہاآیا خودی کو ہوش تو اک آن ہی رہاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  8. کبھی تصور میں آ رہی ہو کبھی تخیل پہ چھا رہی ہومرے شبستان آرزو کو نگار خانہ بنا رہی ہوEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  9. کر گیا گوشہ نشینوں پہ یہ احساں کوئیدے گیا مشغلہ چاک گریباں کوئیEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  10. کسی نافہم سے اظہار تمنا کرنااپنی خاموش محبت کو ہے رسوا کرناEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  11. میں تخلیق شرر کرتا ہوں اپنے سوز پنہاں سےمیں پروانہ نہیں جو آگ لوں ہر شمع سوزاں سےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  12. وہی ہے دست جنوں ہمارا بدلتا رہتا ہے گو قرینہاسی سے دامن کو چاک کرنا اسی سے دامن کے چاک سیناEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  13. یاد تیری جو کبھی آتی ہے بہلانے کواور دیوانہ بنا جاتی ہے دیوانے کوEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  14. بڑی مشکلوں سے کاٹا بڑے کرب سے گزاراترے بعد کوئی لمحہ جو ملا کبھی خوشی کاEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  15. شاید ابھی باقی ہے کچھ آگ محبت کیماضی کی چتاؤں سے اٹھتا ہے دھواں احساںؔEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  16. شوق کے ممکنات کو دونوں ہی آزما چکےتم بھی فریب کھا چکے ہم بھی فریب کھا چکےEhsan Darbhangavi (1922–1998)
  17. آباد رہیں گے ویرانے شاداب رہیں گی زنجیریںجب تک دیوانے زندہ ہیں پھولیں گی پھلیں گی زنجیریںHafeez Merathi (1922–2000)
  18. اس دیوانے دل کو دیکھو کیا شیوہ اپنائے ہےاس پر ہی وشواس کرے ہے جس سے دھوکہ کھائے ہےHafeez Merathi (1922–2000)
  19. اے دل خوشی کا ذکر بھی کرنے نہ دے مجھےغم کی بلندیوں سے اترنے نہ دے مجھےHafeez Merathi (1922–2000)
  20. باد صبا یہ ظلم خدارا نہ کیجیواس بے وفا سے ذکر ہمارا نہ کیجیوHafeez Merathi (1922–2000)
  21. بڑے ادب سے غرور ستمگراں بولاجب انقلاب کے لہجے میں بے زباں بولاHafeez Merathi (1922–2000)
  22. بزم تکلفات سجانے میں رہ گیامیں زندگی کے ناز اٹھانے میں رہ گیاHafeez Merathi (1922–2000)
  23. بے سہاروں کا انتظام کرویعنی اک اور قتل عام کروHafeez Merathi (1922–2000)
  24. پی کر چین اگر آیا بھی کتنی دیر کو آئے گانشہ اک آوارہ پنچھی چہکے گا اڑ جائے گاHafeez Merathi (1922–2000)
  25. تمام رات آنسوؤں سے غم اجالتا رہامیں غم اجال اجال کر خوشی میں ڈھالتا رہاHafeez Merathi (1922–2000)
  26. چاہے تن من سب جل جائےسوز دروں پر آنچ نہ آئےHafeez Merathi (1922–2000)
  27. ستم کی تیغ یہ کہتی ہے سر نہ اونچا کرپکارتی ہے بلندی کہ زندگی ہے ادھرHafeez Merathi (1922–2000)
  28. کون کہتا ہے کہ محرومی کا شکوہ نہ کروہاں مگر ساقئ مے خانہ کو رسوا نہ کروHafeez Merathi (1922–2000)
  29. لہو سے اپنے زمیں لالہ زار دیکھتے تھےبہار دیکھنے والے بہار دیکھتے تھےHafeez Merathi (1922–2000)
  30. اب کھل کے کہو بات تو کچھ بات بنے گییہ دور اشارات و کنایات نہیں ہےHafeez Merathi (1922–2000)
  31. ابھی سے ہوش اڑے مصلحت پرستوں کےابھی میں بزم میں آیا ابھی کہاں بولاHafeez Merathi (1922–2000)
  32. اک اجنبی کے ہاتھ میں دے کر ہمارا ہاتھلو ساتھ چھوڑنے لگا آخر یہ سال بھیHafeez Merathi (1922–2000)
  33. بد تر ہے موت سے بھی غلامی کی زندگیمر جائیو مگر یہ گوارا نہ کیجیوHafeez Merathi (1922–2000)
  34. رات کو رات کہہ دیا میں نےسنتے ہی بوکھلا گئی دنیاHafeez Merathi (1922–2000)
  35. رسا ہوں یا نہ ہوں نالے یہ نالوں کا مقدر ہےحفیظؔ آنسو بہا کر جی تو ہلکا کر لیا میں نےHafeez Merathi (1922–2000)
  36. رنگ آنکھوں کے لیے بو ہے دماغوں کے لیےپھول کو ہاتھ لگانے کی ضرورت کیا ہےHafeez Merathi (1922–2000)
  37. شیخ قاتل کو مسیحا کہہ گئےمحترم کی بات کو جھٹلائیں کیاHafeez Merathi (1922–2000)
  38. صرف زباں کی نقالی سے بات نہ بن پائے گی حفیظؔدل پر کاری چوٹ لگے تو میرؔ کا لہجہ آئے ہےHafeez Merathi (1922–2000)
  39. کیا جانے کیا سبب ہے کہ جی چاہتا ہے آجروتے ہی جائیں سامنے تم کو بٹھا کے ہمHafeez Merathi (1922–2000)
  40. محبت چیخ بھی خاموشی بھی نغمہ بھی نعرہ بھییہ اک مضمون ہے کتنے ہی عنوانوں سے وابستہHafeez Merathi (1922–2000)
  41. ہر سہارا بے عمل کے واسطے بیکار ہےآنکھ ہی کھولے نہ جب کوئی اجالا کیا کرےHafeez Merathi (1922–2000)
  42. یہ بھی تو سوچئے کبھی تنہائی میں ذرادنیا سے ہم نے کیا لیا دنیا کو کیا دیاHafeez Merathi (1922–2000)
  43. اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کوکہ سنبھلنا بھی نہ چاہوں تو سنبھالیں مجھ کوLais Quraishi (b. 1922)
  44. اہل جہاں کے ساتھ وفا یا جفا کروںمیری سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے کیا کروںLais Quraishi (b. 1922)
  45. بارہا یورش افکار نے سونے نہ دیافکر آزاد ہے آزار نے سونے نہ دیاLais Quraishi (b. 1922)
  46. بے قصد سفر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوںپھر خود ہی ٹھہر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوںLais Quraishi (b. 1922)
  47. تم نے بھولے سے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگاہم جو بچھڑیں گے تو کیا حال ہمارا ہوگاLais Quraishi (b. 1922)
  48. تیری جفا ہوئی کہ جہاں کا غضب ہواہم پر تو جو ستم بھی ہوا بے سبب ہواLais Quraishi (b. 1922)
  49. جو اتفاق سے ہم صاحب فراش ہوئےتو ہم پہ راز عزیزاں بھی خوب فاش ہوئےLais Quraishi (b. 1922)
  50. خوب انداز پذیرائی ہےعزت نفس پہ بن آئی ہےLais Quraishi (b. 1922)