Poetry
Poet
Meter
- پتہ ملا ہے وہ تھا میرا ہم سفر بہت دیر بعد جا کرکہاں کہاں سے ملی ہے مجھ کو خبر بہت دیر بعد جا کرJafar Shirazi (b. 1920)
- جان ایسے خوابوں سے کس طرح چھڑاؤں میںشہر سو گیا سارا اب کسے جگاؤں میںJafar Shirazi (b. 1920)
- جی لرزتا ہے امڈتی ہوئی تنہائی سےاب نکالو مجھے اس رات کی پہنائی سےJafar Shirazi (b. 1920)
- حسن آنکھوں میں رہے دل میں جوانی تو رہےزندگانی تیرے ہونے کی نشانی تو رہےJafar Shirazi (b. 1920)
- دل ناداں کوئی محشر نہ اٹھانا اس وقتآ رہا ہے مری باتوں میں زمانا اس وقتJafar Shirazi (b. 1920)
- دن دہکتی دھوپ نے مجھ کو جلایا دیر تکرات تنہائی میں کالا ابر برسا دیر تکJafar Shirazi (b. 1920)
- دن نکلتا ہے تو سامان سفر ڈھونڈتے ہیںرات پڑتی ہے تو ہم اپنی خبر ڈھونڈتے ہیںJafar Shirazi (b. 1920)
- راستوں میں ڈھیر ہو کر پھول سے پیکر گرےبرگ کتنے آندھیوں کے پاؤں میں آ کر گرےJafar Shirazi (b. 1920)
- عکس جا بہ جا اپنی ذات کے گراتا ہےکون آسمانوں سے آئنے گراتا ہےJafar Shirazi (b. 1920)
- اب یہ عالم ہے کہ جس شے پہ نظر جاتی ہےہو بہ ہو آپ کی تصویر نظر آتی ہےRaees Niyazi (1920–1994)
- تمہاری بزم میں مجھ تک بھی جام آیا تووفور شوق نے کوئی مقام پایا توRaees Niyazi (1920–1994)
- جان دے دی رہرو منزل نے منزل کے قریبحوصلے طوفاں کے نکلے بھی تو ساحل کے قریبRaees Niyazi (1920–1994)
- جب سنبھل کر قدم اٹھاتا ہوںکوئی ٹھوکر ضرور کھاتا ہوںRaees Niyazi (1920–1994)
- جو نور دیکھتا ہوں میں جام شراب میںوہ آفتاب میں ہے نہ وہ ماہتاب میںRaees Niyazi (1920–1994)
- دل و نگاہ پہ جس کو ہو اختیار چلےرہ وفا میں کوئی بھی نہ خام کار چلےRaees Niyazi (1920–1994)
- عمر بھر دنیا کو سمجھاتا رہاخود فریب زندگی کھاتا رہاRaees Niyazi (1920–1994)
- غم جب ان کا دیا ہوا غم ہےحیف اس آنکھ پر جو پر نم ہےRaees Niyazi (1920–1994)
- منزل یار بے نشاں بھی نہیںدل ہو غافل تو رازداں بھی نہیںRaees Niyazi (1920–1994)
- نیاز عشق ہے ناز بتاں ہےمحبت کائنات دو جہاں ہےRaees Niyazi (1920–1994)
- ہر آئنہ نے کہا رخصت غبار کے بعدیہاں تو کچھ بھی نہیں ہے جمال یار کے بعدRaees Niyazi (1920–1994)
- یہ بھول جا کہ ہیں تیرے بھی غم گسار بہتبنانا کاغذی پھولوں کے خشک ہار بہتRaees Niyazi (1920–1994)
- تیرا کیا جاتا جو ملتا جام ریحانی مجھےمے کے بدلے ساقیا تو نے دیا پانی مجھےRaaz Layalpuri (b. 1920)
- مانا کہ تری بزم میں چاند آئے ہوئے ہیںلیکن وہ ترے سامنے گہنائے ہوئے ہیںRaaz Layalpuri (b. 1920)
- مدہوشیوں سے کام لیا ہے کبھی کبھیہاتھ ان کا ہم نے تھام لیا ہے کبھی کبھیRaaz Layalpuri (b. 1920)
- مقدر میں لکھا ہے غم ہی غم کیااسی کے ہو کے رہ جائیں گے ہم کیاRaaz Layalpuri (b. 1920)
- یہی اک بات ساقی کو بتانے کی ضرورت ہےہمارے قرب میں اک بادہ خانے کی ضرورت ہےRaaz Layalpuri (b. 1920)
- بھیگی پلکیں شوق کا عالم وقت کا دھارا کیا نہیں دیکھاہنستے آنسو تلخ تبسم میٹھا غصہ کیا نہیں دیکھاYawar Abbas (b. 1920)
- سہنے کو تو سہہ جائیں غم کون و مکاں تکاے خالق ہر درد مگر پھر بھی کہاں تکYawar Abbas (b. 1920)
- کچھ لوگ جو نخوت سے مجھے گھور رہے ہیںماحول سے شاید یہ بہت دور رہے ہیںYawar Abbas (b. 1920)
- محبتیں تو ہوئیں اور تم سے پہلے بھیمگر جو تم سے ہوئی یاد کرتے رہتے ہیںYawar Abbas (b. 1920)
- بہت شکریہ اور بڑی مہربانی مری زندگی میں حضور آپ آئےقدم چوم لوں یا کہ آنکھیں بچھا دوں کروں کیا یہ میری سمجھ میں نہ آئےS. H. Bihari (1920–1987)
- ایسی تو نہ تھی قسمت اپنا بھی کوئی ہوتاکیوں خود کو محبت کا حق دار سمجھ بیٹھےS. H. Bihari (1920–1987)
- نہ جانے کیوں ہمارے دل کو تم نے دل نہیں سمجھایہ شیشہ توڑ ڈالا پیار کے قابل نہیں سمجھاS. H. Bihari (1920–1987)
- اب آئیں یا نہ آئیں ادھر پوچھتے چلوکیا چاہتی ہے ان کی نظر پوچھتے چلوSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اب کوئی گلشن نہ اجڑے اب وطن آزاد ہےروح گنگا کی ہمالہ کا بدن آزاد ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اپنا دل پیش کروں اپنی وفا پیش کروںکچھ سمجھ میں نہیں آتا تجھے کیا پیش کروںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اتنی حسین اتنی جواں رات کیا کریںجاگے ہیں کچھ عجیب سے جذبات کیا کریںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کےآج تک سلگتے ہیں زخم رہ گزاروں کےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اہل دل اور بھی ہیں اہل وفا اور بھی ہیںایک ہم ہی نہیں دنیا سے خفا اور بھی ہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- بجھا دیے ہیں خود اپنے ہاتھوں محبتوں کے دیے جلا کےمری وفا نے اجاڑ دی ہیں امید کی بستیاں بسا کےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- برباد محبت کی دعا ساتھ لیے جاٹوٹا ہوا اقرار وفا ساتھ لیے جاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- بھڑکا رہے ہیں آگ لب نغمہ گر سے ہمخاموش کیا رہیں گے زمانے کے ڈر سے ہمSahir Ludhianvi (1921–1980)
- بھولے سے محبت کر بیٹھا، ناداں تھا بچارا، دل ہی تو ہےہر دل سے خطا ہو جاتی ہے، بگڑو نہ خدارا، دل ہی تو ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہےسرمئی اجالا ہے چمپئی اندھیرا ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- پونچھ کر اشک اپنی آنکھوں سے مسکراؤ تو کوئی بات بنےسر جھکانے سے کچھ نہیں ہوتا سر اٹھاؤ تو کوئی بات بنےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تری دنیا میں جینے سے تو بہتر ہے کہ مر جائیںوہی آنسو وہی آہیں وہی غم ہے جدھر جائیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دوتمہیں غم کی قسم اس دل کی ویرانی مجھے دے دوSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہمٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہمSahir Ludhianvi (1921–1980)
- توڑ لیں گے ہر اک شے سے رشتہ توڑ دینے کی نوبت تو آئےہم قیامت کے خود منتظر ہیں پر کسی دن قیامت تو آئےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- جب کبھی ان کی توجہ میں کمی پائی گئیاز سر نو داستان شوق دہرائی گئیSahir Ludhianvi (1921–1980)