Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. پتہ ملا ہے وہ تھا میرا ہم سفر بہت دیر بعد جا کرکہاں کہاں سے ملی ہے مجھ کو خبر بہت دیر بعد جا کرJafar Shirazi (b. 1920)
  2. جان ایسے خوابوں سے کس طرح چھڑاؤں میںشہر سو گیا سارا اب کسے جگاؤں میںJafar Shirazi (b. 1920)
  3. جی لرزتا ہے امڈتی ہوئی تنہائی سےاب نکالو مجھے اس رات کی پہنائی سےJafar Shirazi (b. 1920)
  4. حسن آنکھوں میں رہے دل میں جوانی تو رہےزندگانی تیرے ہونے کی نشانی تو رہےJafar Shirazi (b. 1920)
  5. دل ناداں کوئی محشر نہ اٹھانا اس وقتآ رہا ہے مری باتوں میں زمانا اس وقتJafar Shirazi (b. 1920)
  6. دن دہکتی دھوپ نے مجھ کو جلایا دیر تکرات تنہائی میں کالا ابر برسا دیر تکJafar Shirazi (b. 1920)
  7. دن نکلتا ہے تو سامان سفر ڈھونڈتے ہیںرات پڑتی ہے تو ہم اپنی خبر ڈھونڈتے ہیںJafar Shirazi (b. 1920)
  8. راستوں میں ڈھیر ہو کر پھول سے پیکر گرےبرگ کتنے آندھیوں کے پاؤں میں آ کر گرےJafar Shirazi (b. 1920)
  9. عکس جا بہ جا اپنی ذات کے گراتا ہےکون آسمانوں سے آئنے گراتا ہےJafar Shirazi (b. 1920)
  10. اب یہ عالم ہے کہ جس شے پہ نظر جاتی ہےہو بہ ہو آپ کی تصویر نظر آتی ہےRaees Niyazi (1920–1994)
  11. تمہاری بزم میں مجھ تک بھی جام آیا تووفور شوق نے کوئی مقام پایا توRaees Niyazi (1920–1994)
  12. جان دے دی رہرو منزل نے منزل کے قریبحوصلے طوفاں کے نکلے بھی تو ساحل کے قریبRaees Niyazi (1920–1994)
  13. جب سنبھل کر قدم اٹھاتا ہوںکوئی ٹھوکر ضرور کھاتا ہوںRaees Niyazi (1920–1994)
  14. جو نور دیکھتا ہوں میں جام شراب میںوہ آفتاب میں ہے نہ وہ ماہتاب میںRaees Niyazi (1920–1994)
  15. دل و نگاہ پہ جس کو ہو اختیار چلےرہ وفا میں کوئی بھی نہ خام کار چلےRaees Niyazi (1920–1994)
  16. عمر بھر دنیا کو سمجھاتا رہاخود فریب زندگی کھاتا رہاRaees Niyazi (1920–1994)
  17. غم جب ان کا دیا ہوا غم ہےحیف اس آنکھ پر جو پر نم ہےRaees Niyazi (1920–1994)
  18. منزل یار بے نشاں بھی نہیںدل ہو غافل تو رازداں بھی نہیںRaees Niyazi (1920–1994)
  19. نیاز عشق ہے ناز بتاں ہےمحبت کائنات دو جہاں ہےRaees Niyazi (1920–1994)
  20. ہر آئنہ نے کہا رخصت غبار کے بعدیہاں تو کچھ بھی نہیں ہے جمال یار کے بعدRaees Niyazi (1920–1994)
  21. یہ بھول جا کہ ہیں تیرے بھی غم گسار بہتبنانا کاغذی پھولوں کے خشک ہار بہتRaees Niyazi (1920–1994)
  22. تیرا کیا جاتا جو ملتا جام ریحانی مجھےمے کے بدلے ساقیا تو نے دیا پانی مجھےRaaz Layalpuri (b. 1920)
  23. مانا کہ تری بزم میں چاند آئے ہوئے ہیںلیکن وہ ترے سامنے گہنائے ہوئے ہیںRaaz Layalpuri (b. 1920)
  24. مدہوشیوں سے کام لیا ہے کبھی کبھیہاتھ ان کا ہم نے تھام لیا ہے کبھی کبھیRaaz Layalpuri (b. 1920)
  25. مقدر میں لکھا ہے غم ہی غم کیااسی کے ہو کے رہ جائیں گے ہم کیاRaaz Layalpuri (b. 1920)
  26. یہی اک بات ساقی کو بتانے کی ضرورت ہےہمارے قرب میں اک بادہ خانے کی ضرورت ہےRaaz Layalpuri (b. 1920)
  27. بھیگی پلکیں شوق کا عالم وقت کا دھارا کیا نہیں دیکھاہنستے آنسو تلخ تبسم میٹھا غصہ کیا نہیں دیکھاYawar Abbas (b. 1920)
  28. سہنے کو تو سہہ جائیں غم کون و مکاں تکاے خالق ہر درد مگر پھر بھی کہاں تکYawar Abbas (b. 1920)
  29. کچھ لوگ جو نخوت سے مجھے گھور رہے ہیںماحول سے شاید یہ بہت دور رہے ہیںYawar Abbas (b. 1920)
  30. محبتیں تو ہوئیں اور تم سے پہلے بھیمگر جو تم سے ہوئی یاد کرتے رہتے ہیںYawar Abbas (b. 1920)
  31. بہت شکریہ اور بڑی مہربانی مری زندگی میں حضور آپ آئےقدم چوم لوں یا کہ آنکھیں بچھا دوں کروں کیا یہ میری سمجھ میں نہ آئےS. H. Bihari (1920–1987)
  32. ایسی تو نہ تھی قسمت اپنا بھی کوئی ہوتاکیوں خود کو محبت کا حق دار سمجھ بیٹھےS. H. Bihari (1920–1987)
  33. نہ جانے کیوں ہمارے دل کو تم نے دل نہیں سمجھایہ شیشہ توڑ ڈالا پیار کے قابل نہیں سمجھاS. H. Bihari (1920–1987)
  34. اب آئیں یا نہ آئیں ادھر پوچھتے چلوکیا چاہتی ہے ان کی نظر پوچھتے چلوSahir Ludhianvi (1921–1980)
  35. اب کوئی گلشن نہ اجڑے اب وطن آزاد ہےروح گنگا کی ہمالہ کا بدن آزاد ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  36. اپنا دل پیش کروں اپنی وفا پیش کروںکچھ سمجھ میں نہیں آتا تجھے کیا پیش کروںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  37. اتنی حسین اتنی جواں رات کیا کریںجاگے ہیں کچھ عجیب سے جذبات کیا کریںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  38. اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کےآج تک سلگتے ہیں زخم رہ گزاروں کےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  39. اہل دل اور بھی ہیں اہل وفا اور بھی ہیںایک ہم ہی نہیں دنیا سے خفا اور بھی ہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  40. بجھا دیے ہیں خود اپنے ہاتھوں محبتوں کے دیے جلا کےمری وفا نے اجاڑ دی ہیں امید کی بستیاں بسا کےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  41. برباد محبت کی دعا ساتھ لیے جاٹوٹا ہوا اقرار وفا ساتھ لیے جاSahir Ludhianvi (1921–1980)
  42. بھڑکا رہے ہیں آگ لب نغمہ گر سے ہمخاموش کیا رہیں گے زمانے کے ڈر سے ہمSahir Ludhianvi (1921–1980)
  43. بھولے سے محبت کر بیٹھا، ناداں تھا بچارا، دل ہی تو ہےہر دل سے خطا ہو جاتی ہے، بگڑو نہ خدارا، دل ہی تو ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  44. پربتوں کے پیڑوں پر شام کا بسیرا ہےسرمئی اجالا ہے چمپئی اندھیرا ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  45. پونچھ کر اشک اپنی آنکھوں سے مسکراؤ تو کوئی بات بنےسر جھکانے سے کچھ نہیں ہوتا سر اٹھاؤ تو کوئی بات بنےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  46. تری دنیا میں جینے سے تو بہتر ہے کہ مر جائیںوہی آنسو وہی آہیں وہی غم ہے جدھر جائیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
  47. تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دوتمہیں غم کی قسم اس دل کی ویرانی مجھے دے دوSahir Ludhianvi (1921–1980)
  48. تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہمٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہمSahir Ludhianvi (1921–1980)
  49. توڑ لیں گے ہر اک شے سے رشتہ توڑ دینے کی نوبت تو آئےہم قیامت کے خود منتظر ہیں پر کسی دن قیامت تو آئےSahir Ludhianvi (1921–1980)
  50. جب کبھی ان کی توجہ میں کمی پائی گئیاز سر نو داستان شوق دہرائی گئیSahir Ludhianvi (1921–1980)