Poetry
Poet
Meter
- جرم الفت پہ ہمیں لوگ سزا دیتے ہیںکیسے نادان ہیں شعلوں کو ہوا دیتے ہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- چہرے پہ خوشی چھا جاتی ہے آنکھوں میں سرور آ جاتا ہےجب تم مجھے اپنا کہتے ہو اپنے پہ غرور آ جاتا ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- چھو لینے دو نازک ہونٹوں کو کچھ اور نہیں ہے جام ہے یہقدرت نے جو ہم کو بخشا ہے وہ سب سے حسیں انعام ہے یہSahir Ludhianvi (1921–1980)
- خودداریوں کے خون کو ارزاں نہ کر سکےہم اپنے جوہروں کو نمایاں نہ کر سکےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- دور رہ کر نہ کرو بات قریب آ جاؤیاد رہ جائے گی یہ رات قریب آ جاؤSahir Ludhianvi (1921–1980)
- دیکھا تو تھا یوں ہی کسی غفلت شعار نےدیوانہ کر دیا دل بے اختیار نےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سےچہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سےچہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- سزا کا حال سنائیں جزا کی بات کریںخدا ملا ہو جنہیں وہ خدا کی بات کریںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- سنسار سے بھاگے پھرتے ہو بھگوان کو تم کیا پاؤ گےاس لوک کو بھی اپنا نہ سکے اس لوک میں بھی پچھتاؤ گےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- سنسار کی ہر شے کا اتنا ہی فسانہ ہےاک دھند سے آنا ہے اک دھند میں جانا ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- شرما کے یوں نہ دیکھ ادا کے مقام سےاب بات بڑھ چکی ہے حیا کے مقام سےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہےدکھ کی دھوپ کے آگے سکھ کا سایا ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- طرب زاروں پہ کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزریدل زندہ ترے مرحوم ارمانوں پہ کیا گزریSahir Ludhianvi (1921–1980)
- عقائد وہم ہیں مذہب خیال خام ہے ساقیازل سے ذہن انساں بستۂ اوہام ہے ساقیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- فن جو نادار تک نہیں پہنچاابھی معیار تک نہیں پہنچاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیابات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- کیا جانیں تری امت کس حال کو پہنچے گیبڑھتی چلی جاتی ہے تعداد اماموں کیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- گلشن گلشن پھولدامن دامن دھولSahir Ludhianvi (1921–1980)
- لب پہ پابندی تو ہے احساس پر پہرا تو ہےپھر بھی اہل دل کو احوال بشر کہنا تو ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- محبت ترک کی میں نے گریباں سی لیا میں نےزمانے اب تو خوش ہو زہر یہ بھی پی لیا میں نےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- مرے دل میں آج کیا ہے تو کہے تو میں بتا دوںتیری زلف پھر سنواروں تری مانگ پھر سجا دوںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھیہوتی ہے دلبروں کی عنایت کبھی کبھیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میری تقدیر میں جلنا ہے تو جل جاؤں گاتیرا وعدہ تو نہیں ہوں جو بدل جاؤں گاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیاہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- میں زندہ ہوں یہ مشتہر کیجیےمرے قاتلوں کو خبر کیجیےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- نہ تو زمیں کے لئے ہے نہ آسماں کے لیےترا وجود ہے اب صرف داستاں کے لیےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ہر چند مری قوت گفتار ہے محبوسخاموش مگر طبع خود آرا نہیں ہوتیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ہر طرح کے جذبات کا اعلان ہیں آنکھیںشبنم کبھی شعلہ کبھی طوفان ہیں آنکھیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ہر قدم مرحلۂ دار و صلیب آج بھی ہےجو کبھی تھا وہی انساں کا نصیب آج بھی ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ہم آپ کی آنکھوں میں اس دل کو بسا دیں توہم موند کے پلکوں کو اس دل کو سزا دیں توSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ہوس نصیب نظر کو کہیں قرار نہیںمیں منتظر ہوں مگر تیرا انتظار نہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھااس رات کی تقدیر سنور جائے تو اچھاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- یہ زمیں کس قدر سجائی گئیزندگی کی تڑپ بڑھائی گئیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- یہ وادیاں یہ فضائیں بلا رہی ہیں تمہیںخموشیوں کی صدائیں بلا رہی ہیں تمہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- آپ بے وجہ پریشان سی کیوں ہیں ماداملوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- آؤ کہ آج غور کریں اس سوال پردیکھے تھے ہم نے جو وہ حسیں خواب کیا ہوئےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- آؤ کہ کوئی خواب بنیں کل کے واسطےورنہ یہ رات آج کے سنگین دور کیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اپنے اندر ذرا جھانک میرے وطناپنے عیبوں کو مت ڈھانک میرے وطنSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اپنے سینے سے لگائے ہوئے امید کی لاشمدتوں زیست کو ناشاد کیا ہے میں نےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں میںاپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- اکیس برس گزرے آزادئ کامل کوتب جا کے کہیں ہم کو غالبؔ کا خیال آیاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- بہت گھٹن ہے کوئی صورت بیاں نکلےاگر صدا نہ اٹھے کم سے کم فغاں نکلےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- پہلوئے شاہ میں یہ دختر جمہور کی قبرکتنے گم گشتہ فسانوں کا پتہ دیتی ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تاج تیرے لیے اک مظہر الفت ہی سہیتجھ کو اس وادیٔ رنگیں سے عقیدت ہی سہیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تری تڑپ سے نہ تڑپا تھا میرا دل لیکنترے سکون سے بے چین ہو گیا ہوں میںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سےنہ جانے کون سے صدمے اٹھا رہی ہو تمSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گاانسان کی اولاد ہے انسان بنے گاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی وہ ہلکی سی لکیرمیرے تخئیل میں رہ رہ کے جھلک اٹھتی ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- جسم کی موت کوئی موت نہیں ہوتی ہےجسم مٹ جانے سے انسان نہیں مر جاتےSahir Ludhianvi (1921–1980)