Poetry
Poet
Meter
- سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیںاہل دل جام بہ کف سر بہ کفن جاتے ہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- کسی نے بھی تو نہ دیکھا نگاہ بھر کے مجھےگیا پھر آج کا دن بھی اداس کر کے مجھےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہاہم کسی کے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- کہیں بے خیال ہو کر یوں ہی چھو لیا کسی نےکئی خواب دیکھ ڈالے یہاں میری بے خودی نےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہےسورج سے ترا رنگ حنا کم تو نہیں ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحیٔ الٰہی ہےمذہب تو بس مذہب دل ہے باقی سب گمراہی ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئےترا ہاتھ ہاتھ میں آ گیا کہ چراغ راہ میں جل گئےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- مرے پیچھے یہ تو محال ہے کہ زمانہ گرم سفر نہ ہوکہ نہیں مرا کوئی نقش پا جو چراغ راہ گزر نہ ہوMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- مسرتوں کو یہ اہل ہوس نہ کھو دیتےجو ہر خوشی میں ترے غم کو بھی سمو دیتےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- نگاہ ساقیٔ نامہرباں یہ کیا جانےکہ ٹوٹ جاتے ہیں خود دل کے ساتھ پیمانےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- وہ تو گیا یہ دیدۂ خوں بار دیکھیےدامن پہ رنگ پیرہن یار دیکھیےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- وہ جس پہ تمہیں شمع سر رہ کا گماں ہےوہ شعلۂ آوارہ ہماری ہی زباں ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ہمارے بعد اب محفل میں افسانے بیاں ہوں گےبہاریں ہم کو ڈھونڈھیں گی نہ جانے ہم کہاں ہوں گےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہچاک کئے ہیں ہم نے عزیزو چار گریباں تم سے زیادہMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرحاٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرحMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہےنگاہ بن کے حسینوں کی انجمن میں رہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ہوں جو سارے دست و پا ہیں خوں میں نہلائے ہوئےہم بھی ہیں اے دل بہاراں کی قسم کھائے ہوئےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- یوں تو آپس میں بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیںملنے والے کہیں الفت میں جدا ہوتے ہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیںیوں ہی کب تلک خدایا غم زندگی نباہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- اب سوچتے ہیں لائیں گے تجھ سا کہاں سے ہماٹھنے کو اٹھ تو آئے ترے آستاں سے ہمMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- اشکوں میں رنگ و بوئے چمن دور تک ملےجس دم اسیر ہو کے چلے گلستاں سے ہمMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- الگ بیٹھے تھے پھر بھی آنکھ ساقی کی پڑی ہم پراگر ہے تشنگی کامل تو پیمانے بھی آئیں گےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- بڑھائی مے جو محبت سے آج ساقی نےیہ کانپے ہاتھ کہ ساغر بھی ہم اٹھا نہ سکےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ترے سوا بھی کہیں تھی پناہ بھول گئےنکل کے ہم تری محفل سے راہ بھول گئےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- جفا کے ذکر پہ تم کیوں سنبھل کے بیٹھ گئےتمہاری بات نہیں بات ہے زمانے کیMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- دل کی تمنا تھی مستی میں منزل سے بھی دور نکلتےاپنا بھی کوئی ساتھی ہوتا ہم بھی بہکتے چلتے چلتےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- شب انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئیکبھی اک چراغ جلا دیا کبھی اک چراغ بجھا دیاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- کچھ بتا تو ہی نشیمن کا پتامیں تو اے باد صبا بھول گیاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- کہاں بچ کر چلی اے فصل گل مجھ آبلہ پا سےمرے قدموں کی گلکاری بیاباں سے چمن تک ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- گلوں سے بھی نہ ہوا جو مرا پتا دیتےصبا اڑاتی پھری خاک آشیانے کیMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- مجھے یہ فکر سب کی پیاس اپنی پیاس ہے ساقیتجھے یہ ضد کہ خالی ہے مرا پیمانہ برسوں سےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- وہ آ رہے ہیں سنبھل سنبھل کر نظارہ بے خود فضا جواں ہےجھکی جھکی ہیں نشیلی آنکھیں رکا رکا دور آسماں ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ہٹ کے روئے یار سے تزئین عالم کر گئیںوہ نگاہیں جن کو اب تک رائیگاں سمجھا تھا میںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ہم ہیں کعبہ ہم ہیں بت خانہ ہمیں ہیں کائناتہو سکے تو خود کو بھی اک بار سجدا کیجیےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- جو مرے دل میں آہ ہو کے رہیوہ نظر بے پناہ ہو کے رہیHabeeb Ashar Dehlavi (1919–1971)
- طور بے طور ہوئے جاتے ہیںاب وہ کچھ اور ہوئے جاتے ہیںHabeeb Ashar Dehlavi (1919–1971)
- موج انفاس بھی اک تیغ رواں ہو جیسےزندگی کار گہ شیشہ گراں ہو جیسےHabeeb Ashar Dehlavi (1919–1971)
- یہ کیف کیف محبت ہے کوئی کیا جانےچھلک رہے ہیں نگاہوں میں دل کے پیمانےHabeeb Ashar Dehlavi (1919–1971)
- صبر اے دل کہ یہ حالت نہیں دیکھی جاتیٹھہر اے درد کہ اب ضبط کا یارا نہ رہاHabeeb Ashar Dehlavi (1919–1971)
- یوں تو اب بھی ہے وہی رنج وہی محرومیوہ جو اک تیری طرف سے تھا اشارا نہ رہاHabeeb Ashar Dehlavi (1919–1971)
- اگر تم کو مجھ سے محبت نہ ہوتییہ سودا نہ ہوتا یہ وحشت نہ ہوتیQaisar Usmani (1919–2000)
- بدلا مزاج حسن تو وہ رو بہ رو نہیںوہ عشوہ و ادا نہیں وہ گفتگو نہیںQaisar Usmani (1919–2000)
- زندگی کیوں اداس ہے اے دوستموت کیا آس پاس ہے اے دوستQaisar Usmani (1919–2000)
- مجھ کو دیکھا نہ بات کی کوئییہ بھی آخر ادا ہوئی کوئیQaisar Usmani (1919–2000)
- میں اس مقام پہ ہوں جس کو لا مکاں کہئےزمیں نہ کہئے اسے اور نہ آسماں کہئےQaisar Usmani (1919–2000)
- آپ چھیڑیں نہ وفا کا قصہبات میں بات نکل آتی ہےDard Asadi (1919–1990)
- اپنے احساس سے باہر نہیں ہونے دیتاراز ظاہر بھی یہ مجھ پر نہیں ہونے دیتاJafar Shirazi (b. 1920)
- ارض و سما پہ رنگ تھا کیسا اتر گیاآندھی چلی تو شام کا چہرہ اتر گیاJafar Shirazi (b. 1920)
- بجلی کڑکی بادل گرجا میں خاموش رہااس کہرام میں بھی اے دنیا میں خاموش رہاJafar Shirazi (b. 1920)
- بہ سطح آب کوئی عکس ناتواں نہ پڑاہوا گزر بھی گئی اور کہیں نشاں نہ پڑاJafar Shirazi (b. 1920)