Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. سوئے مقتل کہ پئے سیر چمن جاتے ہیںاہل دل جام بہ کف سر بہ کفن جاتے ہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  2. کسی نے بھی تو نہ دیکھا نگاہ بھر کے مجھےگیا پھر آج کا دن بھی اداس کر کے مجھےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  3. کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہاہم کسی کے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  4. کہیں بے خیال ہو کر یوں ہی چھو لیا کسی نےکئی خواب دیکھ ڈالے یہاں میری بے خودی نےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  5. گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہےسورج سے ترا رنگ حنا کم تو نہیں ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  6. مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحیٔ الٰہی ہےمذہب تو بس مذہب دل ہے باقی سب گمراہی ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  7. مجھے سہل ہو گئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئےترا ہاتھ ہاتھ میں آ گیا کہ چراغ راہ میں جل گئےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  8. مرے پیچھے یہ تو محال ہے کہ زمانہ گرم سفر نہ ہوکہ نہیں مرا کوئی نقش پا جو چراغ راہ گزر نہ ہوMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  9. مسرتوں کو یہ اہل ہوس نہ کھو دیتےجو ہر خوشی میں ترے غم کو بھی سمو دیتےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  10. نگاہ ساقیٔ نامہرباں یہ کیا جانےکہ ٹوٹ جاتے ہیں خود دل کے ساتھ پیمانےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  11. وہ تو گیا یہ دیدۂ خوں بار دیکھیےدامن پہ رنگ پیرہن یار دیکھیےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  12. وہ جس پہ تمہیں شمع‌ سر رہ کا گماں ہےوہ شعلۂ آوارہ ہماری ہی زباں ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  13. ہمارے بعد اب محفل میں افسانے بیاں ہوں گےبہاریں ہم کو ڈھونڈھیں گی نہ جانے ہم کہاں ہوں گےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  14. ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہچاک کئے ہیں ہم نے عزیزو چار گریباں تم سے زیادہMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  15. ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرحاٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرحMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  16. ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہےنگاہ بن کے حسینوں کی انجمن میں رہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  17. ہوں جو سارے دست و پا ہیں خوں میں نہلائے ہوئےہم بھی ہیں اے دل بہاراں کی قسم کھائے ہوئےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  18. یوں تو آپس میں بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیںملنے والے کہیں الفت میں جدا ہوتے ہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  19. یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیںیوں ہی کب تلک خدایا غم زندگی نباہیںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  20. اب سوچتے ہیں لائیں گے تجھ سا کہاں سے ہماٹھنے کو اٹھ تو آئے ترے آستاں سے ہمMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  21. اشکوں میں رنگ و بوئے چمن دور تک ملےجس دم اسیر ہو کے چلے گلستاں سے ہمMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  22. الگ بیٹھے تھے پھر بھی آنکھ ساقی کی پڑی ہم پراگر ہے تشنگی کامل تو پیمانے بھی آئیں گےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  23. بڑھائی مے جو محبت سے آج ساقی نےیہ کانپے ہاتھ کہ ساغر بھی ہم اٹھا نہ سکےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  24. ترے سوا بھی کہیں تھی پناہ بھول گئےنکل کے ہم تری محفل سے راہ بھول گئےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  25. جفا کے ذکر پہ تم کیوں سنبھل کے بیٹھ گئےتمہاری بات نہیں بات ہے زمانے کیMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  26. دل کی تمنا تھی مستی میں منزل سے بھی دور نکلتےاپنا بھی کوئی ساتھی ہوتا ہم بھی بہکتے چلتے چلتےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  27. شب انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئیکبھی اک چراغ جلا دیا کبھی اک چراغ بجھا دیاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  28. کچھ بتا تو ہی نشیمن کا پتامیں تو اے باد صبا بھول گیاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  29. کہاں بچ کر چلی اے فصل گل مجھ آبلہ پا سےمرے قدموں کی گلکاری بیاباں سے چمن تک ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  30. گلوں سے بھی نہ ہوا جو مرا پتا دیتےصبا اڑاتی پھری خاک آشیانے کیMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  31. مجھے یہ فکر سب کی پیاس اپنی پیاس ہے ساقیتجھے یہ ضد کہ خالی ہے مرا پیمانہ برسوں سےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  32. وہ آ رہے ہیں سنبھل سنبھل کر نظارہ بے خود فضا جواں ہےجھکی جھکی ہیں نشیلی آنکھیں رکا رکا دور آسماں ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  33. ہٹ کے روئے یار سے تزئین عالم کر گئیںوہ نگاہیں جن کو اب تک رائیگاں سمجھا تھا میںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  34. ہم ہیں کعبہ ہم ہیں بت خانہ ہمیں ہیں کائناتہو سکے تو خود کو بھی اک بار سجدا کیجیےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
  35. جو مرے دل میں آہ ہو کے رہیوہ نظر بے پناہ ہو کے رہیHabeeb Ashar Dehlavi (1919–1971)
  36. طور بے طور ہوئے جاتے ہیںاب وہ کچھ اور ہوئے جاتے ہیںHabeeb Ashar Dehlavi (1919–1971)
  37. موج انفاس بھی اک تیغ رواں ہو جیسےزندگی کار گہ شیشہ گراں ہو جیسےHabeeb Ashar Dehlavi (1919–1971)
  38. یہ کیف کیف محبت ہے کوئی کیا جانےچھلک رہے ہیں نگاہوں میں دل کے پیمانےHabeeb Ashar Dehlavi (1919–1971)
  39. صبر اے دل کہ یہ حالت نہیں دیکھی جاتیٹھہر اے درد کہ اب ضبط کا یارا نہ رہاHabeeb Ashar Dehlavi (1919–1971)
  40. یوں تو اب بھی ہے وہی رنج وہی محرومیوہ جو اک تیری طرف سے تھا اشارا نہ رہاHabeeb Ashar Dehlavi (1919–1971)
  41. اگر تم کو مجھ سے محبت نہ ہوتییہ سودا نہ ہوتا یہ وحشت نہ ہوتیQaisar Usmani (1919–2000)
  42. بدلا مزاج حسن تو وہ رو بہ رو نہیںوہ عشوہ و ادا نہیں وہ گفتگو نہیںQaisar Usmani (1919–2000)
  43. زندگی کیوں اداس ہے اے دوستموت کیا آس پاس ہے اے دوستQaisar Usmani (1919–2000)
  44. مجھ کو دیکھا نہ بات کی کوئییہ بھی آخر ادا ہوئی کوئیQaisar Usmani (1919–2000)
  45. میں اس مقام پہ ہوں جس کو لا مکاں کہئےزمیں نہ کہئے اسے اور نہ آسماں کہئےQaisar Usmani (1919–2000)
  46. آپ چھیڑیں نہ وفا کا قصہبات میں بات نکل آتی ہےDard Asadi (1919–1990)
  47. اپنے احساس سے باہر نہیں ہونے دیتاراز ظاہر بھی یہ مجھ پر نہیں ہونے دیتاJafar Shirazi (b. 1920)
  48. ارض و سما پہ رنگ تھا کیسا اتر گیاآندھی چلی تو شام کا چہرہ اتر گیاJafar Shirazi (b. 1920)
  49. بجلی کڑکی بادل گرجا میں خاموش رہااس کہرام میں بھی اے دنیا میں خاموش رہاJafar Shirazi (b. 1920)
  50. بہ سطح آب کوئی عکس ناتواں نہ پڑاہوا گزر بھی گئی اور کہیں نشاں نہ پڑاJafar Shirazi (b. 1920)