بہت شکریہ اور بڑی مہربانی مری زندگی میں حضور آپ آئے

S. H. Bihari (1920–1987)

بہت شکریہ اور بڑی مہربانی مری زندگی میں حضور آپ آئے

قدم چوم لوں یا کہ آنکھیں بچھا دوں کروں کیا یہ میری سمجھ میں نہ آئے

کروں پیش تم کو یہ نذرانہ دل کا کہ بن جائے پھر کوئی افسانہ دل کا

خدا جانے ایسی سہانی گھڑی پھر مری زندگی میں پلٹ کے نہ آئے

مگر یہ مسافر دعا مانگتا ہے خدا آپ سے پھر کسی دن ملائے

مجھے ڈر ہے مجھ میں غرور آ نہ جائے لگوں جھومنے میں سرور آ نہ جائے

کہیں دل نہ میرا یہ تعریف سن کر تمہارا بنے اور مجھے بھول جائے