Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف- جب ہستیٔ کونین ترے غم میں مٹا دیہر پردۂ ہستی سے مجھے تو نے صدا دیVahshi Kanpuri
- اک آفت جاں ہے جو مداوا مرے دل کااچھا کوئی پھر کیوں ہو مسیحا مرے دل کاامیر اللہ تسلیم
- اس جور و جفا سے ترے زنہار نہ ٹوٹےیہ دل تو کسی طرح سے اے یار نہ ٹوٹےاشرف علی فغاں
- ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووےدنیا میں الٰہی کوئی بدنام نہ ہووےاشرف علی فغاں
- عالم میں اگر عشق کا بازار نہ ہوتاکوئی کسی بندہ کا خریدار نہ ہوتااشرف علی فغاں
- ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کاوہ صبح کو ہے یار مرا شام کسی کااشرف علی فغاں
- اے بلبل دل دوڑ کے جاناں کوں پہنچ توںویرانۂ تن چھوڑ گلستاں کوں پہنچ توںObaidullah Khan Mubtala
- صد حیف کہ کمزور ہے چشمان بڑھاپاسستی ستی جنبش میں ہے دندان بڑھاپاObaidullah Khan Mubtala
- فریاد کہ وہ شوخ ستم گار نہ آیامجھ قتل کوں لے ہاتھ میں تلوار نہ آیاObaidullah Khan Mubtala
- حل ہی نہ ہو جس کا وہ معما تو نہیں ہےمکتوب ازل حرف تمنا تو نہیں ہےYaqoob Usmani
- وہ کون سے خطرے ہیں جو گلشن میں نہیں ہیںہم موت کے منہ میں ہیں نشیمن میں نہیں ہیںYaqoob Usmani
- پیغام رہائی دیا ہر چند قضا نےدیکھا بھی نہ اس سمت اسیران وفا نےاقبال سہیل
- دھوکہ ہے اگر آنکھ میں قاتل کی نمی ہےشعلوں پہ کہیں آج تلک برف جمی ہےBadr-e-Alam Khan Azmi
- تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہےپر غیب سے سامان بقا میرے لیے ہےمحمد علی جوہر
- کب گل ہے ہوا خواہ صبا اپنے چمن کاوا جنبش دم سے ہے رفو زخم کہن کاممنون نظام الدین
- جھڑکی نہیں دیتے ہیں کہ غصہ نہیں ہوتاعاشق پہ ستم وصل میں کیا کیا نہیں ہوتامنشی شیو پرشاد وہبی
- جس کی بخدا اس بت کافر پہ نظر ہےچھاتی ہے پہاڑ اس کی تو پتھر کا جگر ہےمنتظر لکھنوی
- دیدہ ہے کہیں دل کہیں اور جان کہیں اوربیٹھا تو ہوں یاں پر ہے مرا دھیان کہیں اورمنتظر لکھنوی
- اس شوخ کے انداز کو دیکھا تو غضب ہےاور اس کے سوا ناز کو دیکھا تو غضب ہےمنتظر لکھنوی
- بن بن کے بگڑ جائے گی تدبیر کہاں تکچکر میں رکھے گی مجھے تقدیر کہاں تکمرزا مائل دہلوی
- پھر آ گئی اک بت پہ طبیعت کو ہوا کیاٹلتی ہی نہیں سر سے مصیبت کو ہوا کیامرزا مائل دہلوی
- تم خوب اڑاتے رہو خاکہ مرے دل کاپیدا نہیں دشمن کوئی تم سا مرے دل کامرزا مائل دہلوی
- شکر اس نے کیا لب پہ مگر نام نہ آیامرنا بھی مرا ہائے مرے کام نہ آیامرزا مائل دہلوی
- کس منہ سے کروں میں تن عریاں کی شکایتداماں کی شکایت نہ گریباں کی شکایتمرزا مائل دہلوی
- قربان ہے سو جان سے تم پر گلہ کیسادیکھو تو مرے دل نے کیا حوصلہ کیساناصری لکھنوی
- دنیا کو تو ہے گلشن و گل زار سے مطلباور مجھ کو فقط یار کے دیدار سے مطلبQamar Hilali
- مدت سے ہے ملنے کی تمنا مرے دل میںبلوائیے یا آئیے شاہا مرے دل میںQamar Hilali
- وہ سر نہیں جس میں ترا سودا نہیں ہوتاآنکھیں نہیں جن میں ترا جلوہ نہیں ہوتاQamar Hilali
- آنے کو نظر میں مری سو فتنہ گر آئےتجھ سا نظر آیا ہے نہ تجھ سا نظر آئےرسا رامپوری
- جی چاہا جدھر چھوڑ دیا تیر ادا کوچٹکی میں اڑائے ہوئے پھرتے ہیں قضا کورسا رامپوری
- ساقی جو دئے جائے یہ کہہ کر کہ پئے جاتو میں بھی پئے جاؤں یہ کہہ کر کہ دیئے جارسا رامپوری
- اے دل تجھے کیا وقت کی پہچان نہیں ہےاب ان سے ملاقات کا امکان نہیں ہےZabt Sitapuri
- میں راز غم عشق سے بیگانہ نہیں ہوںایسا ہوں پیالہ جو محبت سے ہے لبریزZabt Sitapuri
- دکھلائے خدا اس ستم ایجاد کی صورتاستادہ ہیں ہم باغ میں شمشاد کی صورتامانت لکھنوی
- ہیں جلوۂ تن سے در و دیوار بسنتیپوشاک جو پہنے ہے مرا یار بسنتیامانت لکھنوی
- ہاں درد نہاں رنگ کی تعبیر سے پوچھودل پر جو لگی چوٹ وہ تاثیر سے پوچھوعبد الہادی وفا
- ہر ایک کو ہر مرتبہ حاصل نہیں ہوتاآئینہ سکندر کے مقابل نہیں ہوتاعبد الہادی وفا
- کیوں کر نہ ہو مومن کو تمنائے مدینہہیں مالک جنت چمن آرائے مدینہدل شاہ جہانپوری
- ہر لمحۂ موجود کے امکان سے پہلےاک میں ہی یقینی تھا ترے گیان سے پہلےFaisal Fehmi
- گھر میں نظر آتی نہیں غم خوار کی صورتتکتے ہیں پڑے ہم در و دیوار کی صورتمحمود رامپوری
- پابندیٔ راحت مجھے منظور نہیں ہےمیں خوش ہوں کہ فطرت مری مجبور نہیں ہےNabiul Hasan Shamim
- اک شخص جواں خاک بسر یاد تو ہوگاوہ اپنی نگاہوں کا اثر یاد تو ہوگانہال سیوہاروی
- ہوں کالبد خاک میں مہماں کوئی دن اورقسمت میں ہے پابندیٔ زنداں کوئی دن اورنہال سیوہاروی
- اک غیر کہ محفل سے اٹھایا نہیں جاتااک میں کہ کبھی ساتھ بٹھایا نہیں جاتانشتر چھپروی
- تم ہجر کے جھگڑوں کو مٹا کیوں نہیں دیتےبگڑی ہوئی تقدیر بنا کیوں نہیں دیتےنشتر چھپروی
- مولویوں کا شغل تکفیرشبلی نعمانی
- تھا بند وہ در پھر بھی میں سو بار گیا تھامانند ہوا پھاند کے دیوار گیا تھاشوق قدوائی
- تیری سی بھی آفت کوئی اے سوزش تب ہےاک آگ ہے سو اتنی جلن آگ میں کب ہےشوق قدوائی
- لب چپ ہیں تو کیا دل گلہ پرداز نہیں ہےسب کچھ ہے خموشی میں اک آواز نہیں ہےشوق قدوائی
- اک دل میں تھا اک سامنے دریا اسے کہناممکن تھا کہاں پار اترنا اسے کہناYasmeen Habeeb