ہر لمحۂ موجود کے امکان سے پہلے
Faisal Fehmiہر لمحۂ موجود کے امکان سے پہلے
اک میں ہی یقینی تھا ترے گیان سے پہلے
ہوتی ہے جو اب رات تو ہو میری بلا سے
میں ڈوب گیا رات کے اعلان سے پہلے
بس چھو کے پلٹ آتا ہوں اس باغ بدن کو
پڑتا ہے ذرا روح کے زندان سے پہلے
تاریک سرابوں کی چکا چوند میں گم صم
تھا سخت مسلمان میں ایمان سے پہلے
آتی ہے صدا کن کی تو کہتا ہوں کہ زمزم
کچھ مشورہ کر حضرت انسان سے پہلے