جب ہستیٔ کونین ترے غم میں مٹا دی

Vahshi Kanpuri

جب ہستیٔ کونین ترے غم میں مٹا دی

ہر پردۂ ہستی سے مجھے تو نے صدا دی

روداد مرے غم کی انہیں کس نے سنا دی

بھڑکی تھی ادھر آگ ادھر کس نے لگا دی

انجام غم عشق جو پوچھا تو صبا نے

کچھ خاک پتنگوں کی سر بزم اڑا دی

ہر شیخ و برہمن کو رہ عشق دکھا کر

وحشی نے حد کعبہ و بت خانہ مٹا دی