وہ سر نہیں جس میں ترا سودا نہیں ہوتا

Qamar Hilali

وہ سر نہیں جس میں ترا سودا نہیں ہوتا

آنکھیں نہیں جن میں ترا جلوہ نہیں ہوتا

کیوں مجھ پہ کرم آپ کا مولا نہیں ہوتا

کیوں نذر کے قابل دل شیدا نہیں ہوتا

کب تک دل بیمار تڑپتا رہے آقا

کیوں لطف و کرم اس پہ مسیحا نہیں ہوتا

تیر نگہ یار کا کشتہ ہے مرا دل

جز مرہم دیدار وہ اچھا نہیں ہوتا

کیا خاک ملے اس کو مزا عشق کا تیرے

دنیا میں جو تیرے لئے رسوا نہیں ہوتا

کیوں چھپ کے چلے جاتے ہو ہم غیر نہیں ہیں

اپنوں سے جہاں میں کہیں پردا نہیں ہوتا

کشتہ تری دزدیدہ نگاہوں کا قمرؔ ہے

روتا ہے تڑپتا ہے وہ اچھا نہیں ہوتا