Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- آساں نہیں ہے سیل جوانی کو روکناممکن کہاں ڈھلان پہ پانی کو روکناYaqoob Saqi
- یا رب کبھی قبول مری یہ دعا بھی ہوتو نے بدن دیا ہے بدن پر قبا بھی ہوYaqoob Saqi
- گھر غیر کے جو یار مرا رات سے گیاجی سینے سے نکل گیا دل ہات سے گیاآفتاب شاہ عالم ثانی
- میرے گلے سے آن کے پیارا جو پھر لگےیہ ابر یہ بہار مجھے خوب تر لگےآفتاب شاہ عالم ثانی
- آیا نہ راہ پر وہ ستم گر کسی طرحسیدھا ہوا نہ اپنا مقدر کسی طرحاحمد شاہ خاں شبنم
- بے وجہ دل جلوں کو جلانے سے کیا غرضمطلب ہی جب نہیں تو ستانے سے کیا غرضاحمد شاہ خاں شبنم
- جوش جنوں میں نکلے ہیں جب اپنے گھر سے ہممل مل کے خوب روئے ہیں دیوار و در سے ہماحمد شاہ خاں شبنم
- الٹا اثر یہ شکوۂ بیداد سے ہواوہ اور بھی خفا مری فریاد سے ہواہاجر دہلوی
- مانند شمع بزم پگھلنے کے واسطےپیدا ہوا ہوں عشق میں جلنے کے واسطےہاجر دہلوی
- ایسے حسیں کے عشق میں ہے بے قرار دلصدقے ہیں جس کی ایک ادا پر ہزار دلنواب امراوبہادر دلیر
- دنیائے حسن و عشق کا الٹا حساب ہےنا کامیاب ہے جو یہاں کامیاب ہےParmod Lal Yakta
- در پردہ کس دوا سے جبلت بدل گئیبچے بڑے ہوئے تو ضرورت بدل گئیRafeeq Anjum
- مدت ہوئی ہے مدح حسیناں کئے ہوئےنور سخن سے دل کو چراغاں کئے ہوئےوحید الدین سلیم
- دعوت انقلابوحید الدین سلیم
- آنا بھی آنے والے کا افسانہ ہو گیادشمن کے کہنے سننے سے کیا کیا نہ ہو گیاانوری جہاں بیگم حجاب
- پچھلے سفر کا عکس زیاں میرے سامنےسب بستیاں دھواں ہی دھواں میرے سامنےChandra Parkash Shad
- نقش قدم ملے جو ترے چل کے سر سے ہماکثر گزر گئے ہیں تری رہ گزر سے ہمDamodar Thakur Zaki
- مٹی سے جو جڑے تھے وہ جذبات لے لئےہجرت نے کھیت اور مرے باغات لے لئےDeedar Bastawi
- ان کے بغیر چین نہ آئے تو کیا کروںہر دم انہیں کی یاد ستائے تو کیا کروںEhsan Akhtar Ghazipuri
- ڈوبا ہوا سا خون میں خاور دکھائی دےگویا سحر میں شام کا منظر دکھائی دےFaheem Amrohvi
- لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میںاک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میںGham Bijnori
- تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہےدنیا ہمارے دیدۂ حسرت نگر میں ہےہجر ناظم علی خان
- دل فرقت حبیب میں دیوانہ ہو گیااک مجھ سے کیا جہان سے بیگانہ ہو گیاہجر ناظم علی خان
- چرچا ہمارا عشق نے کیوں جا بجا کیادل اس کو دے دیا تو بھلا کیا برا کیاحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- کچھ بات ہی تھی ایسی کہ تھامے جگر گئےہم اور جاتے بزم عدو میں مگر گئےحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- مرتا بھلا ہے ضبط کی طاقت اگر نہ ہوکتنا ہی درد دل ہو مگر چشم تر نہ ہوحکیم محمد اجمل خاں شیدا
- اے غم تجھی سے کیوں نہ خوشی مستعار لوںدو دن کی زندگی ہے تو ہنس کر گزار لوںIbrahim Faiz
- بدلا ہوا سا رنگ گلستاں ہے ان دنوںہم پر بہار تو ترا احساں ہے ان دنوںIbrahim Faiz
- ترک ان دنوں جو یار سے گفت و شنید ہےہم کو محرم اور رقیبوں کو عید ہےمیاں داد خاں سیاح
- ہے دل کو اس طرح سے مرے یار کی تلاشجس طرح تھی کلیم کو دیدار کی تلاشمیاں داد خاں سیاح
- یوں بھی نباہ ہم نے کیا زندگی کے ساتھاک اجنبی ہو جیسے کسی اجنبی کے ساتھPaikar Jafari
- گزرے ہے دل پہ جو وہ کہیں کیا کسی سے ہماپنوں میں ہو کے رہ گئے اک اجنبی سے ہمPaikar Yazdani
- آئے ہیں بادہ نوش بڑی آن بان پرمیلہ لگا ہے پیر مغاں کی دکان پرپیر شیر محمد عاجز
- جاتا ہے کون آپ سے جلاد کی طرفکھینچا اس آب و دانہ نے صیاد کی طرفپیر شیر محمد عاجز
- دیتا ہے مجھ کو چرخ کہن بار بار داغاف ایک میرا سینہ ہے اس پر ہزار داغرنجور عظیم آبادی
- قصہ تو زلف یار کا طول و طویل ہےکیوں کر ادا ہو عمر کا رشتہ قلیل ہےشیر محمد خاں ایمان
- یوسف ہی زر خریدوں میں فیروز بخت تھاقیمت میں جس کی پھر وہی شاہی کا تخت تھاشیر محمد خاں ایمان
- پہنچا ہے آج قیس کا یاں سلسلہ مجھےجنگل کی راس کیوں نہ ہو آب و ہوا مجھےشیر محمد خاں ایمان
- آنکھوں میں لے کے یاس مجھے دیکھنے تو دےکون آ رہا ہے پاس مجھے دیکھنے تو دےTabassum Anwar
- روکیں نہ اپنی فکر کو پت جھڑ کے آس پاسدیمک لگی ہوئی ہے ہر اک جڑ کے آس پاسVijay kumar Swarnkar
- فطرت سے اس کی آج بھی وہ کل نہیں گیارسی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیاVijay kumar Swarnkar
- مقتل میں آج حوصلہ دل کا نکل گیاسب اپنے پاؤں سے گئے میں سر کے بل گیاعاشق حسین بزم آفندی
- یارائے گفتگو نہیں آنکھوں میں دم نہیںیہ خامشی بھی عرض تمنا سے کم نہیںHafiz Ludhiyanvi
- احوال رنج بزم میں کہنا محال ہےکہتے ہیں خوب شعر کہا ہے کمال ہےMadhav Noor
- گویا لٹوں کی ڈور سے باندھا ہوا ہے چانددیکھو سیاہ زلف میں کیسے پھنسا ہے چاندMadhav Noor
- اک نو بہار ناز کو مہماں کریں گے ہمہر داغ دل کو رشک گلستاں کریں گے ہممجید لاہوری
- اس بت کو دل دکھا کے کلیجہ دکھا دیااسباب اپنی ذات کا سارا دکھا دیامنشی خیراتی لال شگفتہ
- اٹھے جو تیرے در سے تو دنیا سمٹ گئیبیٹھے تھے تیرے در پہ زمانہ لیے ہوئےUmar Farooq
- کچھ وقت اپنے ساتھ گزاروں گا میں ضمیرؔخود سے اگر ملا جو کبھی کوئے یار میںYaseen Zameer
- کس سے کروں میں اپنی تباہی کا اب گلہخود ہی کماں بہ دست ہوں خود ہی شکار میںYaseen Zameer