Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musaddas Mahzuf

رمل مسدس محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. ہاتھ پہنچے بھی نہ تھے مہتاب تکہو گئے مٹی سنہرے خواب تکChand Kakralvi (b. 1979)
  2. لب کو تیرے مے کشی دے جاؤں گیاور زباں کو شاعری دے جاؤں گیParveen Shaghaf (b. 1980)
  3. سر جھکا کر شاہ کے دربار میںچھید ہم نے سو کیے دستار میںNabeel Ahmad Nabeel (b. 1982)
  4. جان اس دل کی بچانے کے لیےیاد آ بس یاد آنے کے لیےSaaieb S. M. Patil (b. 1984)
  5. زخم کھا کے مسکرانا آ گیاوصف یہ بھی شاعرانہ آ گیاJ E Najm (b. 1985)
  6. پاؤں بے دھیانی میں ایسا پڑ گیاسب کے کرداروں تلک کیچڑ گیاParas Mazari (b. 1985)
  7. در بدر مزدور کی تقدیر سوچمر گیا ہے کیوں بھلا رہ گیر سوچFaizan Asad (b. 1986)
  8. زندگی بھر دوڑتا ہے بیٹھ جاغم کہاں کب بولتا ہے بیٹھ جاFaizan Asad (b. 1986)
  9. کچھ دنوں تک ہی شناسائی رہیپھر میری شب میری تنہائی رہیChitra Bhardwaj suman (b. 1986)
  10. جی لیے پر من نہیں بھر پائے ہمایک خالی پن نہیں بھر پائے ہمGaurav Trivedi (b. 1990)
  11. اپنا سچ اس کو سنانے کے لیےہم کو قصوں کا حوالہ چاہیئےObaid Haris (b. 1990)
  12. تہہ بہ تہہ کھلتی ہی رہتی ہے سدامیرؔ کے دیوان سی ہے زندگیObaid Haris (b. 1990)
  13. چترا اور جگجیت کا گایا ہواگیت ہے تو مجھ پہ فلمایا ہواFaisal Khayyam (b. 1990)
  14. تھک گئے سب کہتے دیوانہ ہمیںآپ نے ہی دیر سے جانا ہمیںGayatri Mehta (b. 1993)
  15. آنکھ تو ان پڑھ ہے اور نادان ہےدل کی خواہش ایک ہی انسان ہےAamir Ata (b. 1994)
  16. عشق میں اب خون پانی کیجیےنذر وحشت یہ جوانی کیجیےAamir Ata (b. 1994)
  17. کون نکلے گھر سے باہر رات میںسو گئے ہم اپنے اندر رات میںVikram Sharma (b. 1994)
  18. داستان غم تجھے بتلائیں کیازخم سینے کے تجھے دکھلائیں کیاBabar Rehman Shah (b. 1994)
  19. اٹھ رہا ہے دم بہ دم ڈر کا دھواںکم نہیں ہو پا رہا گھر کا دھواںVasaf Basit (b. 1994)
  20. شوق اب تکمیل کو پہنچا مرادیکھ کیسا زرد ہے چہرہ مراRafia Zainab (b. 1995)
  21. پھر کسی سے ہے محبت آپ کوجانے کب ہوگی ندامت آپ کوYash Trivedi (b. 1995)
  22. سیر گاہوں میں نہ اب یاروں کے بیچہجر میں ہوں چار دیواروں کے بیچYash Trivedi (b. 1995)
  23. گاؤں کی مٹی ہوا پانی کے ساتھکٹ رہی ہیں چہٹیاں نانی کے ساتھYash Trivedi (b. 1995)
  24. دل گیا سانسوں کا اب غم کیا کریںتم بتاؤ جاں کہ اب ہم کیا کریںGeetanjali Geet (b. 1997)
  25. اب بھلا کیا دیکھتے ہو آب میںغرق سب کچھ ہو گیا گرداب میںJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
  26. ان سے مل کر بھی بھلا کیا کیجئےپاس بیٹھے اور شکوہ کیجئےJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
  27. اوڑھ کر جو برف کا کمبل گیاآگ سے وہ شخص کیسے جل گیاUbaid Najibabadi (b. 1998)
  28. ہم سے جب اپنوں نے جھگڑا کر لیاتھک کے تنہائی سے سایہ کر لیاUbaid Najibabadi (b. 1998)
  29. عالم رنج و الم ہے خیر ہویا خدا کیسا ستم ہے خیر ہوFaisal Imtiyaz Khan (b. 2001)
  30. روبرو آنا چھپانا چھوڑ دےلن ترانی کا سنانا چھوڑ دےجمیلہ خدا بخش
  31. لالہ رو تم غیر کے پالے پڑےدیکھنے کے ہیں ہمیں لالے پڑےWaliullah Muhib
  32. پھول جتنے ہیں تمہارے ہار میںسب گندھے ہیں آنسوؤں کے تار میںمرزا آسمان جاہ انجم
  33. گر انہیں ہے اپنی صورت پر گھمنڈہم کو ہے اپنی محبت پر گھمنڈمرزا آسمان جاہ انجم
  34. لطف ہو گر تو ہو اور مے خانہ ہومیں ہوں اور میرا دل دیوانہ ہومرزا آسمان جاہ انجم
  35. گر کہوں مطلب تمہارا کھل گیاکہتے ہیں اچھا ہوا کیا کھل گیانظام رامپوری
  36. حسن کو شکلیں دکھانی آ گئیںشوخیاں لے کر جوانی آ گئیںنوح ناروی
  37. میں تردد سے کبھی خالی نہیںعاشقی میں فارغ البالی نہیںنوح ناروی
  38. ہر صدائے عشق میں اک راز ہےنالۂ دل غیب کی آواز ہےنوح ناروی
  39. یوں نہ میری بات مانی جائے گیخوب جانچی خوب چھانی جائے گینوح ناروی
  40. رو رہا تھا میں بھری برسات تھیحال کیا کھلتا اندھیری رات تھیثاقب لکھنوی
  41. ہم تمہارے غم سے باہر آ گئےہجر سے بچنے کے منتر آ گئےTahzeeb Hafi
  42. اب کی ہولی میں رہا بے کار رنگاور ہی لایا فراق یار رنگبخش ناسخ
  43. حال غم ان کو سناتے جائیےشرط یہ ہے مسکراتے جائیےKhumar Barabankavi
  44. جانے کیا دیکھا تھا میں نے خواب میںپھنس گیا پھر جسم کے گرداب میںBashar Nawaz
  45. جس کو پاس اس نے بٹھایا ایک دناس کو دنیا سے اٹھایا ایک دنکشن کمار وقار
  46. عشق ہے اس زلف کا سرتاج آجہے رسول حسن کی معراج آجکشن کمار وقار
  47. مرغ جاں کو زلف پیچاں جال ہےجال کیا اے جان جاں جنجال ہےکشن کمار وقار
  48. خود غلط وہ قول و فعل ان کا غلطخط غلط انشا غلط املا غلطکشن کمار وقار
  49. منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لیدیکھ لی اے حور طلعت دیکھ لیرند لکھنوی
  50. اک پری کا پھر مجھے شیدا کیاعشق نے پھر مفسدہ برپا کیارند لکھنوی