ہاتھ پہنچے بھی نہ تھے مہتاب تک

Chand Kakralvi (b. 1979)

ہاتھ پہنچے بھی نہ تھے مہتاب تک

ہو گئے مٹی سنہرے خواب تک

چال تو دریا کی ہم نے روک دی

آ گئی نوبت مگر سیلاب تک

بادلوں کی مہربانی ہو گئی

ورنہ کیا آتی ندی تالاب تک

اس زمیں کی آبیاری کیسے ہو

کم ہے جس کی پیاس کو سیلاب تک

دکھ تو یہ ہے کوڑیوں میں بک گئے

کچھ گھروں کے گوہر نایاب تک

خیر ہو مولا سیاست آ گئی

مسجدوں کے منبر و محراب تک

حوصلہ تنکے کا وہ بھی دیکھ لے

لے چلو موجو مجھے گرداب تک