جی لیے پر من نہیں بھر پائے ہم
Gaurav Trivedi (b. 1990)جی لیے پر من نہیں بھر پائے ہم
ایک خالی پن نہیں بھر پائے ہم
خود سے رسوا ہو گئے ہم اور پھر
خود میں اپنا پن نہیں بھر پائے ہم
دل میں جو کچھ بھی تھا پتھر ہو گیا
آنکھوں میں ساون نہیں بھر پائے ہم
روح جیسے ساتھ تیرے چل بسی
بعد تیرے تن نہیں بھر پائے ہم
پیار کرنا تو سکھایا تھا اسے
پر دوانہ پن نہیں بھر پائے ہم
گھر میں جو بوڑھا شجر تھا گر گیا
پھر کبھی آنگن نہیں بھر پائے ہم
دل جو اک صدمے نے بے سدھ کر دیا
دل میں پھر دھڑکن نہیں بھر پائے ہم