حال غم ان کو سناتے جائیے

Khumar Barabankavi

حال غم ان کو سناتے جائیے

شرط یہ ہے مسکراتے جائیے

آپ کو جاتے نہ دیکھا جائے گا

شمع کو پہلے بجھاتے جائیے

شکریا لطف مسلسل کا مگر

گاہے گاہے دل دکھاتے جائیے

دشمنوں سے پیار ہوتا جائے گا

دوستوں کو آزماتے جائیے

روشنی محدود ہو جن کی خمارؔ

ان چراغوں کو بجھاتے جائیے