حسن کو شکلیں دکھانی آ گئیں

نوح ناروی

حسن کو شکلیں دکھانی آ گئیں

شوخیاں لے کر جوانی آ گئیں

سر میں سودا دل میں درد آنکھوں میں اشک

بستیاں ہم کو بسانی آ گئیں

جو بگڑ جاتا تھا باتوں پر کبھی

اب اسے باتیں بنانی آ گئیں

دل میں لاکھوں داغ روشن ہو گئے

عشق کو شمعیں جلانی آ گئیں

برق و باراں کے جلو میں بدلیاں

ساتھ لے کر آگ پانی آ گئیں

اے دل راحت طلب ہشیار باش

ساعتیں اب امتحانی آ گئیں

دل لگا کر پھنس گئے زحمت میں ہم

تھیں بلائیں جتنی آنی آ گئیں

مسکرا دینا قیامت ہو گیا

بجلیاں تم کو گرانی آ گئیں

ڈر رہے تھے جن سے ارباب جہاں

وہ بلائیں آسمانی آ گئیں

نوحؔ وہ کہتے ہیں پھر طوفان اٹھے

قوتیں اب آزمانی آ گئیں