زخم کھا کے مسکرانا آ گیا

J E Najm (b. 1985)

زخم کھا کے مسکرانا آ گیا

وصف یہ بھی شاعرانہ آ گیا

طاقچے میں اک دعا رکھی گئی

اک دیے کو سر چھپانا آ گیا

پھول تازہ ہی سہی گلدان میں

درد کمرے میں پرانا آ گیا

دیکھ لو چپ چاپ اٹھ کے چل دیے

دیکھ لو رشتہ نبھانا آ گیا

دیکھیے یہ نجمؔ کوچہ ہے وہی

دیکھیے صاحب ٹھکانہ آ گیا