لالہ رو تم غیر کے پالے پڑے
Waliullah Muhibلالہ رو تم غیر کے پالے پڑے
دیکھنے کے ہیں ہمیں لالے پڑے
جب نظر سرمے کے دنبالے پڑے
دل کے پیچھے تیر اور بھالے پڑے
اس برس فرقت میں تیرے اشک کے
چشم سے بہتے ہیں پرنالے پڑے
ہم ہوائے وصل میں یاں تک پھرے
جو ہوس کے پاؤں میں چھالے پڑے
عارض اس کے پر نہیں زلف سیاہ
گنج پر سوتے ہیں دو کالے پڑے
آہ اور نالے کے گرداگرد دل
پھرتے ہیں راتوں کو رکھوالے پڑے
کیا نزاکت ہے کہ بوسہ لیتے ہی
ہونٹ پر اس گل کے تب خالے پڑے
آنکھیں اس خوں خار سے پھر جا لڑیں
زخم دل کے ہیں ابھی آلے پڑے
عشق کے ہاتھوں سے جوں فرہاد و قیس
کیا کہیں کس کس کے گھر گھالے پڑے
عاشق اس کی مست آنکھوں کے مدام
پھرتے ہیں بے ہوش متوالے پڑے
شیخ تم فی الحال در بزم سماع
بد اصولی سے ہو بے تالے پڑے
اپنے گھر میں شیخ اندھیری رات میں
ہاتھ جو آوے اسے جا لے پڑے
کھولے یہ شیشوں کے منہ ساقی نے آج
بزم میں ترتے ہیں کیا پیالے پڑے
اڑتے پھرتے ہیں زمیں پر شکل ابر
پرچہ پرچہ روئی کے گالے پڑے
در پر اس گل کے محبؔ تم سے ہزار
پھرتے ہیں دل بیچنے والے پڑے