Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- میں تو اتنا بھی سمجھنے سے رہا ہوں قاصرراہ تکنے کے سوا آنکھ کا مقصد کیا ہےIdris Azad
- شعرا میں نہ ہو کیوں شعر ہمارا اونچاکہ قد یار کا مضمون ہے باندھا اونچاکشن کمار وقار
- تہمت حسرت پرواز نہ مجھ پر باندھےوجہ کیا کھول کے صیاد نے پھر پر باندھےرند لکھنوی
- مجھ بلانوش کو تلچھٹ بھی ہے کافی ساقیبھر دے چلو میں جو ہو شیشے میں باقی ساقیرند لکھنوی
- دل کی تسکین کو کافی ہے پریشاں ہوناہے توکل بخدا بے سر و ساماں ہوناساحر دہلوی
- دیجئے رخصت بوسہ نہیں لے بیٹھیں گےپیارے یہ یاد رہے جان بھی دے بیٹھیں گےمیر اثر
- گرچہ دل میں ہی سدا جان جہاں رہتے ہوپر بظاہر نہیں معلوم کہاں رہتے ہومیر اثر
- تازہ آزار کا ارمان کہاں جاتا ہےپھر ستا لے ترے قربان کہاں جاتا ہےمبارک عظیم آبادی
- کیوں کیا کرتے ہیں آہیں کوئی ہم سے پوچھےکر گئیں کیا وہ نگاہیں کوئی ہم سے پوچھےمبارک عظیم آبادی
- ہے ترے داغ سے تر سینۂ سوزاں میراآب و رنگ آگ سے رکھتا ہے گلستاں میراانعام اللہ خاں یقین
- یار کب دل کی جراحت پہ نظر کرتا ہےکون اس کوچے میں جز تیرے گزر کرتا ہےانعام اللہ خاں یقین
- جس قدر ضبط کیا اور بھی رونا آیایہ طبیعت نہیں آئی کوئی دریا آیاقربان علی سالک بیگ
- رونقوں پر ہیں بہاریں ترے دیوانوں سےپھول ہنستے ہوئے نکلے ہیں نہاں خانوں سےافسر میرٹھی
- موسم برسات کی صبحافسر میرٹھی
- راہنما بن جاؤںافسر میرٹھی
- تری تیغ ابرو کی ٹک سامنے کر دیکھیں توبچے خورشید بھی رکھ منہ پہ سپر دیکھیں تومرزا اظفری
- دوستی میں تری بس ہم نے بہت دکھ جھیلےکون نت اٹھ کے مری جان یہ پاپڑ بیلےمرزا اظفری
- سوچ میں تیرے سنا رات جو کھٹکا پٹکاسر کو تکیے سے اٹھا پٹی پہ دے دے پٹکامرزا اظفری
- جب سے آباد کیا قیس نے ویرانے کوچھیڑنے آتی ہے لیلیٰ ترے دیوانے کوصفدر مرزا پوری
- جلوہ اس بت کا چراغ رہ عرفاں نکلادیر سے ہو کے برہمن بھی مسلماں نکلاصفدر مرزا پوری
- دل میں پہلے تو کھٹکتا نہ تھا ارماں کوئیرہ گیا ٹوٹ کے شاید ترا پیکاں کوئیصفدر مرزا پوری
- دور مجھ تک نہیں آتا کبھی پیمانے کاکچھ عجب رنگ ہے ساقی ترے میخانے کاصفدر مرزا پوری
- کس کے کھوئے ہوئے اوسان چلے آتے ہیںوہ جو یوں بے سر و سامان چلے آتے ہیںصفدر مرزا پوری
- مجھ کو یہ چھیڑ کہ تم سے بھی حسیں ہوتے ہیںان کو یہ ضد کہ دکھا دو جو کہیں ہوتے ہیںصفدر مرزا پوری
- تم جو کہتے ہو کہ آویں گے ترے ہاں کل تککون جیتا ہے جدائی میں مری جاں کل تکزین العابدین خاں عارف
- سر جو رہتا ہے مرا رونے سے اکثر بھاریپاؤں پر رکھتا نہیں ان کے سمجھ کر بھاریزین العابدین خاں عارف
- کیا کرے گی یہ تری کاکل پیماں میراحال کچھ اس سے بھی افزوں ہے پریشاں میرازین العابدین خاں عارف
- ہر گھڑی چلتی ہے تلوار ترے کوچے میںروز مر رہتے ہیں دو چار ترے کوچے میںزین العابدین خاں عارف
- ہم نہ محظوظ ہوئے ہیں کسی شے سے ایسےجیسے مسرور ہیں پینے ستے مے سے ایسےقاسم علی خان آفریدی
- تجھ کو دیکھا تو مری آنکھ نے دیکھا مجھ میںجھلملاتا ہے کوئی پہلے ہی تجھ سا مجھ میںR P Shokh
- جسم کا گھر ہی گرا ہے تو نہ جاں ٹھہرے گییاد آئی بھی کسی کی تو کہاں ٹھہرے گیR P Shokh
- جو نہ گلشن نہ گلابوں سے نکل کر آئےوہ تو خوشبو ہے جو خوابوں سے نکل کر آئےR P Shokh
- چارہ سازی کا طلب گار لگے ہے وہ بھیاک مسیحا ہے سو بیمار لگے ہے وہ بھیR P Shokh
- درد بن کر بھی دل و جاں میں نہیں رہ پاتاوہ سنورتا ہے تو امکاں میں نہیں رہ پاتاR P Shokh
- دل کی باتیں ہیں یہ بوجھل نہ بناؤں اس کومصلحت یہ ہے کہ کچھ بھی نہ بتاؤں اس کوR P Shokh
- زندگی اپنی ہوئی یار کی فطرت کی طرحہم بھی کل ہوں کہ نہ ہوں اس کی عنایت کی طرحR P Shokh
- شہر میں بن کے محبت کا گداگر مانگوںمجھ کو مانگے سے ملے وہ تو میں در در مانگوںR P Shokh
- غم تو یہ بھی ہے کہ تقدیر بھی روئی برسوںہائے وہ زلف گرہ گیر بھی روئی برسوںR P Shokh
- کٹ گئے ہم تو حبیبوں سے اجازت لے کرہم سے ملتا ہے رقیبوں سے اجازت لے کرR P Shokh
- کس پہ قربان کسے یاد ہوئے تھے ہم بھییاد اتنا ہے کہ برباد ہوئے تھے ہم بھیR P Shokh
- کم کبھی راہ کے آزار تو ہوتے ہوں گےآبلہ پائی کہیں خار تو ہوتے ہوں گےR P Shokh
- کوہ کن شب تھے رہا شغل سحر ہونے تکسر پٹکنا اسی دیوار میں در ہونے تکR P Shokh
- نقش دیوار شکستہ ہی کہیں ہو مجھ میںدرد ہو یاد ہو کوئی تو مکیں ہو مجھ میںR P Shokh
- اشک امڈیں تو انہیں پلکوں پہ روکا جائےکیوں یہ پندار وفا صورت گریہ جائےAabid Jafri
- درد کی آنچ میں جلتا ہے یہ گھر کیا کیجےخواب ہوتی ہے تمنا کی سحر کیا کیجےAabid Jafri
- شب کی آغوش میں جاگا ہوا گھر کس کا ہےاس پہ آسیب نہیں ہے تو اثر کس کا ہےAabid Jafri
- غم دیا ہے تو سوا حوصلۂ غم دینایہ تو اک آگ ہے پھر کیا اسے شبنم دیناAabid Jafri
- فکر رکھتے ہیں کہاں ذہن اگر رکھتے ہیںدشت بے آب میں جو تخم ہنر رکھتے ہیںAabid Jafri
- کر چکا پھول میں جب سارے جہاں کے پتھرآ پڑے سر پہ مرے جانے کہاں کے پتھرAabid Jafri
- گھر تو لٹتا ہے مگر ہم کو مٹانے والےکون سے دیس سے لائیں گے زمانے والےAabid Jafri