دل کی باتیں ہیں یہ بوجھل نہ بناؤں اس کو

R P Shokh

دل کی باتیں ہیں یہ بوجھل نہ بناؤں اس کو

مصلحت یہ ہے کہ کچھ بھی نہ بتاؤں اس کو

شہر میں جا کے کہوں کس سے برا حال اپنا

کوئی اپنا ہو تو احوال سناؤں اس کو

آ بسیں دل میں بھی روزی کی تمنائیں اب

اب کہاں جاؤں کہ دنیا سے چھپاؤں اس کو

ہر گلی کوچۂ قاتل ہے دل ایذا طلب

کوئی مشکل ہو تو آسان بناؤں اس کو

لمس ممکن نہیں شعلے کا بنا خاک ہوئے

پھول ہو صرف تو سینے سے لگاؤں اس کو