درد بن کر بھی دل و جاں میں نہیں رہ پاتا

R P Shokh

درد بن کر بھی دل و جاں میں نہیں رہ پاتا

وہ سنورتا ہے تو امکاں میں نہیں رہ پاتا

فصل گل جھیل کے یوں جسم دریدہ تو نہ تھا

چاک بھی اب تو گریباں میں نہیں رہ پاتا

حمد کیجے بھی تو کیا اس کی کہ ہے برق صفت

دو گھڑی دیدۂ حیراں میں نہیں رہ پاتا

کچھ تو غمزے بھی ہیں اس دشمن دیں کے کافر

کچھ یہ دل بھی ہے کہ ایماں میں نہیں رہ پاتا

روزی روٹی کے سوالوں میں گھرا رہتا ہوں

دل میں جو شخص ہے ارماں میں نہیں رہ پاتا