جو نہ گلشن نہ گلابوں سے نکل کر آئے

R P Shokh

جو نہ گلشن نہ گلابوں سے نکل کر آئے

وہ تو خوشبو ہے جو خوابوں سے نکل کر آئے

اتنی رنگیں تو نہیں ہوتی قبا کیا ہوگا

گر مرا چاند سحابوں سے نکل کر آئے

غم کے تارے بھی بجھے جاتے ہیں اس سے کہہ دو

صورت صبح حجابوں سے نکل کر آئے

زندگی اب تو ترا شہر حقائق یہ کہے

کوئی صحرا نہ سرابوں سے نکل کر آئے

کبھی وہ بھی تو ثنا خواں ہو کہ جس کی خاطر

اتنے خوں‌ ریز عذابوں سے نکل کر آئے

جب کوئی لفظ ترے پیار کے قابل نہ ملا

کوئی معنی نہ کتابوں سے نکل کر آئے