زندگی اپنی ہوئی یار کی فطرت کی طرح

R P Shokh

زندگی اپنی ہوئی یار کی فطرت کی طرح

ہم بھی کل ہوں کہ نہ ہوں اس کی عنایت کی طرح

وقت ہم کو یہ برے دن نہ دکھاتا اے کاش

ہم بھی اٹھ جاتے زمانے سے محبت کی طرح

ہم تو ہر لمحے کو دیتے رہے سانسوں کا حساب

ہم پہ ٹوٹا ہے ہر اک لمحہ قیامت کی طرح

گل کھلائے گا یہ مقتول لہو دھرتی پر

کسی رخسار پہ چڑھتی ہوئی رنگت کی طرح

لوگ کہتے ہیں نہ کیوں بھول گیا میں اس کو

وہ کہ تھا جو مری بنیادی ضرورت کی طرح

زندگی تو کسی ساغر میں ڈھلی تو ہوتی

ہم تو پی لیتے تجھے جام شہادت کی طرح