Poetry
Ramal Musamman Mahzuf
رمل مثمن محذوف- ختم ہوگا اب سفر پیش نظر ہے روئے دوستآ رہی ہے آج کی منزل سے مجھ کو بوئے دوستمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- میان سے تیرا اگر خنجر نکل کر رہ گیامیرے بھی دل میں بڑا ارماں ستم گر رہ گیامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- نوح کا طوفان اک آنسو سے برپا کیجئےجی میں آتا ہے کہ اب قطرہ کو دریا کیجئےمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- میں بتاؤں عشق کیا ہے ایک پیہم اضطرابدھیمی دھیمی آنچ کہیے یا مسلسل التہابUrooj Qadri
- اک نظر میں درد کھو دینا دل بیمار کایہ تو ادنیٰ سا کرشمہ ہے نگاہ یار کااحسن مارہروی
- سنگ در بن کر بھی کیا حسرت مرے دل میں نہیںتیرے قدموں میں ہوں لیکن تیری محفل میں نہیںاحسن مارہروی
- غم کا طوفاں آئے گا میں نے کبھی سوچا نہ تھاسب ہی کچھ لے جائے گا میں نے کبھی سوچا نہ تھاDard Sironji
- کیا خبر تھی اس قدر وہ بے وفا ہو جائے گاایک دن سایہ مرا مجھ سے جدا ہو جائے گاDard Sironji
- ہر تمنا پوری کر دے جو ہمارے دل میں ہےآنے والے اب تو آ جا زندگی مشکل میں ہےDard Sironji
- جب ذرا نغموں سے بلبل گل فشاں ہو جائے گاٹوکری پھولوں کی سارا آشیاں ہو جائے گاQadr Bilgrami
- ہو گیا ابرو کی سفاکی سے شہرا یار کاکام کر جائے سپاہی نام ہو سردار کاQadr Bilgrami
- دیکھنا غافل نہ رہنا چشم تر سے دیکھناآئنہ جب دیکھنا میری نظر سے دیکھناQadr Bilgrami
- گردش دوراں سے یہاں کس کو فراغ آیا ہے ہاتھہاں مگر آیا تو اک حسرت کا داغ آیا ہے ہاتھعاشق اکبرآبادی
- پھل درختوں سے گرے تھے آندھیوں میں تھال بھرمیرے حصے میں مگر آئے نہیں رومال بھرBadr Wasti
- آج کل تو سب کے سب ٹی وی کے دیوانے ہوئےورنہ بچے تو لیا کرتے تھے پاگل کے مزےBadr Wasti
- پھر فضا میں کوئی زہریلا دھواں بھر جائے گاپھر کسی دن اپنے اندر کچھ نہ کچھ مر جائے گاBalbir Rathi
- حسرتیں خاموش ہیں اجڑے مزاروں کی طرحولولے روشن ہیں کیوں پھر بھی شراروں کی طرحBalbir Rathi
- راہرو کو دور سے منزل سمجھ بیٹھے تھے ہمبحر غم میں موج کو ساحل سمجھ بیٹھے تھے ہمBalbir Rathi
- زندگی اک جال میں الجھی ہوئی ہے آج بھیبے بسی پہلے جو تھی وہ بے بسی ہے آج بھیBalbir Rathi
- گو پرانی ہو چکی وہ ہوش میں آنے کی باتلوگ پھر بھی کر رہے ہیں مجھ کو سمجھانے کی باتBalbir Rathi
- دوسروں کی آنکھ لے کر بھی پشیمانی ہوئیاب بھی یہ دنیا ہمیں لگتی ہے پہچانی ہوئیEjaz Obaid
- کس سے ملنے جاؤ اب کس سے ملاقاتیں کروتم اکیلے ہو دل تنہا سے ہی باتیں کروEjaz Obaid
- پاس رہ کر دیکھنا تیرا بڑا ارمان ہےمجھ کو سب مشکل ہے پیارے تجھ کو سب آسان ہےمیر سوز
- ناصحو دل کس کنے ہے کس کو سمجھاتے ہو تمکیوں دوانے ہو گئے ہو جان کیوں کھاتے ہو تممیر سوز
- عشق نے میرے جسے القاب کا دفتر دیااس نے سونے کو مجھے کانٹوں بھرا بستر دیاSabeenSaif
- چھوڑ کر مجھ کو چلی اے بے وفا میں بھی تو ہوںلے خبر میری بھی اے تیغ ادا میں بھی تو ہوںشرف مجددی
- زندگی کے ہر نفس کو جان جاں سمجھا تھا میںچند لمحوں کو حیات جاوداں سمجھا تھا میںVahshi Kanpuri
- یوں ترنم ریز ہے ہر پردہ دل کے ساز کاہر نفس پر مجھ کو دھوکا ہے تری آواز کاVahshi Kanpuri
- کہنے سننے سے مری ان کی عداوت ہو گئیجو نہ ہونی تھی وہ غیروں کی بدولت ہو گئیامیر اللہ تسلیم
- بڑھ گئی مے پینے سے دل کی تمنا اور بھیصدقہ اپنا ساقیا یک جام صہبا اور بھیامیر اللہ تسلیم
- غیب سے سحرا نوردوں کا مداوا ہو گیادامن دشت جنوں زخموں کا پھاہا ہو گیاامیر اللہ تسلیم
- کیا ہوا رنگینیٔ صبح و مسا باقی نہیںاپنے ہی گھر میں وہ پہلی سی فضا باقی نہیںHabab Hashmi
- عاشقوں کو اے فلک دیوے گا تو آزار کیادشمن جاں ان کا تھوڑا ہے دل بیمار کیاعیش دہلوی
- اے تجلی کیا ہوا شیوہ تری تکرار کامر گیا آخر کو یہ طالب ترے دیدار کااشرف علی فغاں
- ٹوٹے تختے پر سمندر پار کرنے آئے تھےہم سفر طوفان غم سے پیار کرنے آئے تھےZafar Ghauri
- چل پڑے ہم دشت بے سایہ بھی جنگل ہو گیاہم سفر جب مل گئے جنگل میں منگل ہو گیاZafar Ghauri
- انتخابی دور میں شعلہ بیانی چھوڑ دیاس نے مجھ سے ہر طرح کی بد گمانی چھوڑ دیBadr-e-Alam Khan Azmi
- فاقہ مستی میں بھی جینے کی ادا لے جائیں گےیہ لٹیرے میرے گھر سے اور کیا لے جائیں گےBadr-e-Alam Khan Azmi
- جوش پر یوں جذبۂ بے اختیار آ ہی گیادیکھ کر ان کو برہنہ مجھ کو پیار آ ہی گیابوم میرٹھی
- جب خزاں آئی چمن میں سب دغا دینے لگےتنکے اڑا اڑ کر نشیمن کا پتہ دینے لگےبوم میرٹھی
- کس سے آزردہ مرے قاتل کا خنجر ہو گیاکیا ہوا جو آج یوں جامے سے باہر ہو گیامحمد علی جوہر
- یک بیک جاتا رہا دلبر جو گھر آیا ہوادوڑا دوڑا میں پھرا گلیوں میں گھبرایا ہوامنتظر لکھنوی
- باتوں باتوں میں کیا خوں آج اک دلگیر کاواہ کیا کہنا تری رنگینیٔ تقریر کاناصری لکھنوی
- یاد آتی ہے مجھے جب خوش بیانی آپ کیکچھ نئے لفظوں میں کہتا ہوں کہانی آپ کیناصری لکھنوی
- کیا خبر تھی کوئی رسوائے جہاں ہو جائے گاکچھ نہ کہنا بھی مرا حسن بیاں ہو جائے گاشیر سنگھ ناز دہلوی
- فکر کعبہ کچھ ہے کچھ ہے شوق بت خانہ مجھےدل بہلنے کو ہے کافی بزم رندانہ مجھےZabt Sitapuri
- عشق کے اعجاز سے تسکیں کا ساماں ہو گئیںاب جفائیں بھی نوازش ہائے پنہاں ہو گئیںJagdish Sahay Saxena
- کیا بچے دل جان لیوا اس کا ہر انداز ہےغمزہ ہے عشوہ ہے شوخی ہے ادا ہے ناز ہےنشتر چھپروی
- دل مرا ٹوٹا تو اس کو کچھ ملال آ ہی گیااپنے بچپن کے کھلونے کا خیال آ ہی گیاشوق قدوائی
- مارے غصے کے غضب کی تاب رخساروں میں ہےکل تو تھی پھولوں میں گنتی آج انگاروں میں ہےشوق قدوائی