فاقہ مستی میں بھی جینے کی ادا لے جائیں گے

Badr-e-Alam Khan Azmi

فاقہ مستی میں بھی جینے کی ادا لے جائیں گے

یہ لٹیرے میرے گھر سے اور کیا لے جائیں گے

دندناتے پھر رہے ہیں زعفرانی بھیڑیے

گھر کے اندر گھس کے بچوں کو اٹھا لے جائیں گے

آدمی کا جسم ہوگا اور سر ابلیس کا

پاٹھ شالاؤں میں کالے سانپ پالے جائیں گے

ان کا مقصد ہے خدا سے ہر وسیلہ کاٹ دیں

ہاتھ سے قرآن ہونٹوں سے دعا لے جائیں گے

ذرہ ذرہ لال کر دیں گے ہمارے خون سے

اور ہمیں سے یہ ستم گر خوں بہا لے جائیں گے

وہ مٹا دیں گے ہماری عظمتوں کا ہر نشاں

چاند تاروں سے ہمارا نقش پا لے جائیں گے

تشنگی ہوگی جہاں بے ساختہ نوحہ کناں

اس جگہ ہم داستان کربلا لے جائیں گے

خونچکاں تاریخ دہرائے گی اپنے آپ کو

میکدے سے شیخ جی پھر سے نکالے جائیں گے

کب تلک یوں ہی دعاؤں پر رہے گا انحصار

کب تلک سر یوں ہی نیزوں پر اچھالے جائیں گے

پارسا ہمراہ لے جائیں گے پندار عمل

ہم تو اپنے ساتھ ان کی خاک پا لے جائیں گے

لوٹ کر جانے نہ پائیں گے یہ ظالم خالی ہاتھ

کچھ نہیں تو ساتھ اپنے بد دعا لے جائیں گے