جوش پر یوں جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا

بوم میرٹھی

جوش پر یوں جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا

دیکھ کر ان کو برہنہ مجھ کو پیار آ ہی گیا

غیر جب خلوت سے نکلا دوڑ کر میں نے کہا

دوسرا بھی آپ کا امیدوار آ ہی گیا

تھا نزاکت سے بہت مجبور پھر بھی بعد مرگ

سالا اٹھتا بیٹھتا سوئے مزار آ ہی گیا

اس کا سینہ سے لپٹنا تھا کہ تسکیں ہو گئی

بے قراری کو مری کچھ تو قرار آ ہی گیا

انتظاری میں کسی کے رات بھر تڑپا کئے

جھوٹے وعدہ کا کسی کے اعتبار آ ہی گیا

ان کا بیمار محبت سنتے ہی اعلان دید

تھام کر دل گرتا پڑتا بے قرار آ ہی گیا

خوف بدنامی سے گو اکثر چھپایا جرم کو

لب پر ان کا نام پھر بھی بار بار آ ہی گیا