زندگی کے ہر نفس کو جان جاں سمجھا تھا میں

Vahshi Kanpuri

زندگی کے ہر نفس کو جان جاں سمجھا تھا میں

چند لمحوں کو حیات جاوداں سمجھا تھا میں

چھوٹ کر اب قید رنگ و بو سے یہ ثابت ہوا

وہ قفس تھا جس کو اپنا آشیاں سمجھا تھا میں

میرا ہی افسانہ مضمر نالۂ بلبل میں تھا

جس کو غفلت سے حدیث دیگراں سمجھا تھا میں

رنگ رخ بیتابیٔ دل آہ سرد و اشک گرم

سب تھے یہ غماز جن کو راز داں سمجھا تھا میں

کیا ہوا اشک مسلسل سرد آہیں کیا ہوئیں

عشق کو تو کارواں در کارواں سمجھا تھا میں