یوں ترنم ریز ہے ہر پردہ دل کے ساز کا

Vahshi Kanpuri

یوں ترنم ریز ہے ہر پردہ دل کے ساز کا

ہر نفس پر مجھ کو دھوکا ہے تری آواز کا

اک تجلی ہی تجلی ہر طرف پاتا ہوں میں

اللہ اللہ کیا اثر ہے حسن کے اعجاز کا

اضطراب دل کے صدمے سوز پنہاں کے نثار

آ گیا جنبش میں ہر پردہ حریم ناز کا

چشم حیرت مہر بر لب دل بہ آغوش حبیب

مختصر یہ حال ہے اب آشنائے راز کا

حشر سب کو سرمد و منصور کا معلوم ہے

کون حامل ہو سکے گا اب نوائے راز کا