انتخابی دور میں شعلہ بیانی چھوڑ دی
Badr-e-Alam Khan Azmiانتخابی دور میں شعلہ بیانی چھوڑ دی
اس نے مجھ سے ہر طرح کی بد گمانی چھوڑ دی
اس کا وعدہ ہے وہ کر دے گا مجھے جنت نشیں
با خوشی میں نے اگر مسجد پرانی چھوڑ دی
میں حقائق کے سہارے اب تلک لڑتا رہا
پھر اچانک اس نے بڑھ کر اک کہانی چھوڑ دی
جو تھے محروم انا جا کر سمندر میں گرے
ایک دریا نے مگر اپنی روانی چھوڑ دی
جب ادب کے سورما بننے لگے پشہ صفت
ہم نے بھی اکتا کے آخر پہلوانی چھوڑ دی
میرے سر پر ہر طرف سے سیکڑوں پتھر لگے
جب سبک سر ہو کے میں نے سرگرانی چھوڑ دی
پر فشاں اشعار ہیں یا ہے فرشتوں کا نزول
یا عدم نے اک بلائے ناگہانی چھوڑ دی
عہد نو میں کچھ نہیں ملتا ہے قیمت کے بغیر
اب مسیحا نے روش اپنی پرانی چھوڑ دی
جانے کس کا حاشیہ بردار ہے میرا قلم
ہر کس و ناکس کی اس نے ترجمانی چھوڑ دی