دل مرا ٹوٹا تو اس کو کچھ ملال آ ہی گیا

شوق قدوائی

دل مرا ٹوٹا تو اس کو کچھ ملال آ ہی گیا

اپنے بچپن کے کھلونے کا خیال آ ہی گیا

حشر میں مظلوم سب چپ رہ گئے منہ دیکھ کر

آخر اس ظالم کے کام اس کا جمال آ ہی گیا

ہنس کے بولا جب پھنسا بالوں میں خوں آلودہ دل

جال پھیلایا تھا میں نے اس میں لال آ ہی گیا

چھپ کے گر ماہ صیام آتا تو مے کیوں چھوٹتی

کیا کروں میں سامنے میرے ہلال آ ہی گیا

دل تھا اس کا لیکن اب ہم مر کے دیں گے حور کو

وہ پشیماں ہے کہ وقت انتقال آ ہی گیا

کانپ اٹھے غصے سے وہ سن کر مری فریاد کو

نغمہ ایسا تھا کہ آخر ان کو حال آ ہی گیا

میری نظروں سے کوئی اے شوقؔ سیکھے جذب عشق

بن کے تل آنکھوں میں اس کے رخ کا خال آ ہی گیا